لاہور ہائیکورٹ:حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28مئی تک توسیع

لاہور ہائیکورٹ نے  آمدن سے زائد اثاثہ جات  اور رمضان شوگر ملز کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی ہے اورفنانشل مانیٹرنگ یونٹ( ایف ایم یو) کا خفیہ خط منظر عام پر لانے کے حوالے سے متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کی۔

حمزہ شہباز کےوکلا کے طرف سے ان کے سینئیر وکیل  اعظم نذیر تارڑ کی عدم دستیابی کے باعث کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی ۔

اس پر جسٹس علی باقر نجی نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟

نیب کے پراسیکیوٹر نے نے کہا کہ گرفتاری کی وجوہات سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات حمزہ شہباز کو دی جا چکی ہیں،عدالت کو اختیار ہے ملزم کی ضمانت منظور کرے یا خارج کرے۔

ملزم حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا انکوائری شروع کرنے کے حوالے سے چیئرمین نیب کی اجازت سے متعلق تحریری حکم نہیں دیا جا رہا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اگر چیئرمین نیب کی اجازت موجود نہیں تو تمام کارروائی کالعدم ہو جائے گی۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب نے حمزہ شہباز کیخلاف کیا رائے تحریری طور پر جاری کی؟اگر قانونی رائے دستاویز ہے تو اسکا مطلب میں اسکے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کر سکتا۔ رائے سے پتہ چلے گا حمزہ شہباز کیخلاف کارروائی کی بنیاد کیا ہے؟

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ اگر انکوائری شروع ہو جائے تو کوئی  ملزم بھی اکائونٹ نہیں کھلواسکتا کیونکہانکوائری شروع ہونے کے بعد تمام اثاثے منجمد کر دیئے جاتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا گرفتاری کی وجوہات میں حمزہ شہباز کیخلاف تمام کارروائی کی بنیاد بتائی گئی ہے۔حمزہ شہباز نے 2 اعشاریہ 11 بلین کی رقم سلمان شہباز، نصرت شہباز سمیت دیگر خاندان کے افراد سے وصول کی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا گرفتاری  کی وجوہات میں واضح کہا کہ خدشہ ہے ملزم حمزہ شہباز فرار ہو جائے گا اسی لئے انکی گرفتاری ضروری ہے۔

جسٹس علی باقر نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ نیب کا ملزم حمزہ شہباز کیخلاف کیا کیس ہے؟ الزام کیا ہے؟

نیب پراسیکیوٹر نھے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا ہمیں نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 سی کے تحت چیئرمین نیب کی رائے اور ایف ایم یو رپورٹس فراہم کی جائیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا میاں شہبازشریف ، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے2008ء میں 9 صنعتی یونٹس بنائے۔ 2013 سے 2018ء تک حمزہ شہباز شریف رکن اسمبلی رہے، حمزہ نے بیرون ملک سے منگوائی گئی رقم کے ذرائع نہیں بتائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ملزم حمزہ کے بھائی سلمان شہباز کو طلب کیا گیا تھا مگر وہ فرار ہو گئےہیں۔ شہباز شریف خاندان کے فرنٹ مین مشتاق چینی کو گرفتار کیا گیا،ملزم نے یو اے ای اور عرب ممالک میں سرمایہ کاری کا فرضی ریکارڈ ظاہر کیا۔ حمزہ شہباز نے جن لوگوں کو بیرون ملک انویسٹر ظاہر کیا وہ درحقیقت کبھی بیرون ملک ہی نہیں گئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا ملزم نے مشتاق چینی کیساتھ ملکر بے نامی بنک اکائونٹس بنائے اور رقوم وصول کیں،مزدوروں، چھوٹی دکانوں والے، پھیری والوں کو بیرون ملک سے ترسیلات کرنے والا ظاہر کیا گیا، فضل داد عباسی، مشتاق چینی، سید طاہر نقوی نے ملزم اور اسکے خاندان کے منی لانڈرنگ کا انکشاف کیاہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ ایف ایم یو کی رپورٹ کا انتظار کر لیں،ایف ایم یو کی رپورٹ  اس کیس کی بنیاد ہے،اگر نیب کہتا ہے کہ ایف ایم یو کا خط ظاہر کرنا استحقاق ہے تو ہم اس پر دلائل دیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ  ایف ایم یو کا خط ساتھ لائے ہیں۔ عدالت کہے گی تو ایف ایم یو کا خط پیش کر دیںگے۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 سی کے تحت چیئرمین نیب انکوائری شروع کرنے کیلئے رائے دے گا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں چیئرمین نیب کی رائے کو جوڈیشل ریویو سے مشروط کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کو جب ایف ایم یو کیساتھ ملاتے پیں تو نیب کا دائرہ اختیار ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہم 2 قانون نہیں چلنے دیں گے۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا نیب تو مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر حمزہ شہباز کو گرفتار بھی نہیں کر سکتا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ ابھی تک چیئرمین نیب نے کتنے کیسز میں رائے دی ہے؟

سلمان اسلم بٹ نے کہا میرے 3 کیسز میں چیئرمین نیب نے انکوائری شروع کرنے کیلئے رائے دی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہانیب آرڈیننس کی دفعہ 18 سی کے تحت چیئرمین نیب سمجھے تو رائے دے سکتا ہے، جب انکوائری یا تفتیش شروع ہوتی ہے تو یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ایف ایم یو کے خط کے علاوہ تمام دستاویزات ہمیں ملزم کو دینے کا حکم ہے۔

جسٹس علی باقرنے پوچھا کیا پراسیكیوشن کو ہدایت ہے کہ ایف ایم یو کا خط عدالت کو دکھایا جائے یا نہیں؟ بادی النظر میں نیب بہت سارے قوانین کا سہارا لے رہا ہے۔

حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے کوئی رہنما اصول موجود نہیں ہیں۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کسی بھی خفیہ دستاویز کو ملزم  سے  نہیں چھپایا جا سکتا۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں خفیہ دستاویز 7 دنوں میں ملزم کو فراہم کرنا لازمی ہے،۔

حمزہ کے وکیل نے کہا نیب تو یہاں 12 سال سویا رہا اور آج انہوں نے میرے موکل کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنا دیاہے12 سال کہاں تھے یہ نیب والے؟

اس پر جسٹس علی باقر نجفی نے مسکرا کر کہا وہ  چیئرمین نیب نہیں ہیں۔

سلمان اسلم بٹ نے وضاحت کی کہ وہ  فاضل جج صاحبان کو چیئرمین نیب نہیں کہہ رہے۔

حمزہ کے وکیل نے کہا کہ نیب نے منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر میرے موکل کو  پورے ملک میں بدنام کر دیاہے۔

اس پر جسٹس علی باقر نے ریمارکس دیے کہ ’’بدنام جو  ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟ ‘‘

یہ بھی پڑھیں: لاہورہائیکورٹ:حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 22 مئی تک توسیع

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا قانون کے تحت کوئی بھی خفیہ دستاویز ملزم سے نہیں چھپائی جا سکتی۔ اگر کل کو میں بری ہوا تو کیا پتہ میں انکے خلاف ہتک عزت کا دعوی کر دوں،ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کے بعد بھی مجھے یہ خفیہ دستاویز نہیں دیں گے؟

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا ہم آپ کی دلیل سمجھ گئے ۔

لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں حمزہ شہبا زنے کہا کہ شہبازشریف ضرور واپس آئیں گے،ہم مشرف دور میں بھی نہیں بھاگے تھے بلکہ جیلیں کاٹی تھیں۔

انہوں نے عمران خان کا نام لیکر کہا کہ خان صاحب تم تو جھوٹے،دھوکے باز اور نالائق ہو۔

چیرمین نیب کےحالیہ مبینہ انٹرویو سے متعلق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اگر انہوں نے واقعی یہ انٹرویو دیا ہے تو یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔

حمزہ شہبا زنے کہا کہ وہ تو کب سے کہہ رہے ہیں کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ چل رہاہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز