ایم کیو ایم نئے صوبے کے قیام کیلئے ہر قانونی راستہ اختیار کریگی، ترجمان


متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیوایم )پاکستان  نے کہا ہے کہ  وہ  سندھ میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق سیاسی جماعتوں سے رابطوں سمیت ہر قانونی راستہ اختیارکریگی۔

ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے یہ بیان وزیراعظم عمران خان کے سندھ میں نئے صوبے کی حمایت نہ کرنے کے بیان کے بعد سامنے آیاہے۔

ترجمان ایم کیوایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ وزیراعظم کا سندھ میں نئے صوبے سے متعلق مؤقف ان کی جماعت کی رائے ہوسکتی ہے ایم کیوایم سمجھتی ہے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے لیے آگے بڑھا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان سندھ میں نئے صوبےکے قیام  سے متعلق سیاسی جماعتوں سے رابطے کریگی اور اس مقصد کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 10 سالوں میں 2 ہزار ارب روپے کا فنڈ چوری کیا گیا، سندھ کے شہروں کا استحصال کیا گیا جعلی ڈومیسائل کے ذریعے نہ صرف شہری نوجوانوں کا روزگار چھینا گیا بلکہ  سندھ پبلک سروس کمیشن میں تعصب بھی  کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

گزشتہ شام  متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے  افطار ڈنر کا اہتمام بھی کیا جس میں  وزیر ریلوے شیخ رشید ،سابق وزیر خزانہ اسد عمر،فردوس شمیم نقوی اور پی ایس پی کے ناراض رہنماوسیم آفتاب اور سلیم تاجک سمیت عمائدین شہر اور شوبز شخصیات نے شرکت کی۔

افطار ڈنر میں ایم کیوایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہناتھا کہ ایم کیوایم وہ جماعت ہے جن کے آباواجداد نے پاکستان بنایا،آئندہ بھی پاکستان کے لیے ایم کیوایم چٹان کی طرح کھڑی رہے گی، وزیراعظم کے مزید صوبے نہ بنانے کے اعلان پر اُن کاکہناتھا وزیراعظم کا بیان سر آنکھوں پرمگر اس حوالےسے  ایم کیوایم کا اپنا بیان موجود  ہے،بیچ کا راستہ دیکھنا ہوگا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماں فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم دونوں الگ جماعتیں ہیں ،صوبے کےحوالے سے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

سربراہ تنظیم ایم کیو ایم پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد پاس ہو سکتی ہے تو سندھ میں انتطامی یونٹ پر بات کیوں نہیں ہوسکتی؟ پاکستان کے بہتر مفاد میں چھوٹے انتظامی  یونٹ بنانا ہے اور یہ اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

فاروق ستار نے کہا عمران خان کا یہ ٹکہ  سا جواب ایم کیو ایم پاکستان کو منظور ہو سکتا ہے ،فاروق ستار اورسندھ کے  شہریوں کو یہ جواب منظور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں دو صوبے بننے چاہئیں،، ملک میں اور سندھ میں نئے انتطامی یونٹ کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیرٹرانسپورٹ سید اویس قادرشاہ کا ردعمل بھی سامنے آیاہے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کئے گئے اپنے بیان میں اویس قادر شاہ نے کہاہے کہ اچھا ہوتا وزیراعظم گورنر سندھ کوسندھ کی تقسیم والے بیان پر مستعفی ہونے کا کہتے،اگر پی ٹی آئی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہے تو پھر گورنر سندھ اور دیگر رہنماؤں نے کیوں تقسیم کا بیان دیا؟

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم قائد کی پارٹی سمیت سندھ کی تقسیم کی کوشش کرنے والے خود تقسیم ہوچکے ہیں۔

واضح رہے گزشتہ روز  وزیراعظم عمران خان نےاپنے دورہ کراچی کے دوران  اپنے اتحادیوں پر واضح کیا تھا کہ ان کی جماعت سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے خلاف ہے، نئے بلدیاتی نظام کے بعد صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

عمران خان نے کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کی تھی جس میں فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ ، فیصل واوڈا، نصرت سحر عباسی، صدرالدین شاہ راشدی اور دیگر شریک ہوئے۔

وزیراعظم کے دورہ کراچی کے دوران ہونے والی ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال، صوبے میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری مختلف تر قیاتی منصوبوں اور اتحادی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے خلاف ہیں، وزیر اعظم

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز