کابینہ کا ملکی سلامتی داؤ پر لگانے والوں کو رعایت نہ دینے پر اتفاق

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں شریک ارکان نے شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سلامتی داؤ پرلگانے والوں کو رعایت نہیں ملے گی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات  فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کچھ شرپسند قبائلی علاقوں میں ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں نے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے قبائلی عوام کو سینے سے لگایا اور امن و ترقی کا نیا باب شروع ہوا تھا لیکن جن کو قبائلی علاقوں کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھائی انہوں نے دوبارہ شرپسندی شروع کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ہاتھوں میں کھیل کر کچھ افراد نے معصوم قبائلیوں کو سیاست کا ایندھن بنانے کی کوشش کی، قبائلی عوام کے حقوق، جان و مال کے تحفظ کے لیے پورے پاکستان کے عوام شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

اجلاس میں وزارت انسانی حقوق، وزارت قانون، وزارت آئی ٹی کو جنسی تشدد کے روک تھام کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی گئی ہے۔

’فحش مواد سے محفوظ بنانے کی حکمت عملی بنائی جائے گی‘

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اہم چیز ہے لیکن بچوں کو انٹرنیٹ پر فحش مواد سے محفوظ بنانے کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔

وزارتوں کی غیر استعمال شدہ 31 عمارتوں کے حوالے سے تفصیلات بھی کابینہ میں پیش کی گئیں جن کے مطابق نیب نے 17 پراپرٹیز ایرا میں کام کرنے والے 19 گریڈ کے افسر سے برآمد کیں جن کی مالیت 10 ارب روپے ہے۔

وفاقی کابینہ نے کچی کینال منصوبے میں کرپشن پر تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ میں بجٹ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ اور صحافیوں کے لیے کھانے کی سمری پیش کی گئی جسے وزیراعظم نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ کفایت شعاری کا بجٹ ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مشیر خزانہ نے بجٹ کے حوالے سے ارکان کو بریفنگ دی جبکہ کابینہ اراکین نے مشیر خزانہ کو اپنی تجاویز بھی دیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ بجٹ حکمت عملی 20-2019 کے دستاویزات پر اراکین کو بریفنگ دی اور بجٹ کے نمایاں خدوخال کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا۔

اجلاس میں تمام وزارتیں اور ادارے اپنے اثاثوں کے بارے میں کابینہ کو معلومات فراہم کرنا تھی جبکہ کچی کینال کی تعمیر میں کرپشن کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر غور کیا جانا تھا۔

کابینہ اجلاس میں ملک میں امن و امان اور موجودہ معاشی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس میں مزید نکات کا اضافہ کرتے ہوئے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وزارت آبی وسائل کے حوالے کرنے پر غور کیا گیا۔

بجٹ اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ اورصحافیوں کو کھانا اور ہائی ٹی دینے کی منظوری بھی زیر غور رہی جبکہ کابینہ شیخ زید میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور کو پنجاب سے واپس لے کر وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کی منظوری پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز