قومی اسمبلی،ہمیں معاشی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں دن بدن معاشی زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں آج کے دن پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت شروع ہوا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو قومی اپنے محسن کو یاد نہیں رکھتی وہ اسی طرح سرگرداں رہتی ہیں۔ آج ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کو یاد کرنے کا دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص نے ایٹمی بنایا تھا وہ آج جیل میں ہے اور جس نے ایٹمی پروگرام شروع کیا وہ پھانسی چڑھ گیا۔ اب وقت ہے کہ یہ ایوان جمہوریت اور سرحدوں کی حفاظت کرے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم تکبیر کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو پاکستان کا سرفخر سے بلند ہوتا ہے اور آج کے دن ہمیں اپنے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یاد رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں قومی اسمبلی میں بجٹ گیارہ جون کو پیش کیا جائیگا

انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹ میں جب ایک قوم کی بات ہو گی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے لیکن اگر یہاں لسانیت کی بات ہو گی تو ملک میں انتشار پھیلے گا۔

مراد سعید نے خطاب کے دوران کہا کہ ملک میں معیشت کی بدحالی کی بات کرنے والے کرپشن کا بھی جواب دیں۔ نواز شریف کرپشن کی وجہ سے قید کاٹ رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کو خوش ہونا چاہیے کہ اس بار نواز شریف عید اپنے ملک میں منائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون اپنے دور حکومت میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنا سکے جہاں نواز شریف اور شہباز شریف کا علاج ممکن ہو سکے۔ نواز شریف کو 30 ہزار ارب روپے کا بھی حساب دینا ہو گا۔

مراد سعید کی تقریر کے دوران مسلم لیگ نون کے اراکین کی جانب سے شورشرابہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز، ادویات اور ایمبولینسز کی کمی پر توجہ دلاؤ نوٹس علی نواز اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا۔

علی نواز اعوان نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں بیشتر بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریاں غیر فعال ہیں جبکہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز، ادویات اور ایمبولینسز کی کمی ہے اور اسلام آباد کی 22 لاکھ آبادی کے لیے صرف دو اسپتال ہیں۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نوشین حامد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کیڈ کی وزارت کو ختم کرکے وزارت صحت کے ماتحت کردیا ہے جبکہ وزارت صحت ہیلتھ کے شعبے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے اور بہت جلد صحت کے شعبے میں ریفارمز نظر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو نہیں بلکہ 4 سرکاری اسپتال موجود ہیں جو اپنا کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اوبر اور کریم کی طرز پر ایمبولینسز بھی آن لائن دستیاب ہوں گی۔

اسمبلی کے دوران صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی بات کی گئی اور حکومتی رکن علی محمد نے صحافیوں کو بہت جلد تنخواہیں جاری کروانے کی یقین دہانی کرائی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز