شہباز شریف کی عدم موجودگی ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی غیر فعال

ن لیگ کی اندرونی کہانی: مارچ میں شرکت پرآمادہ، دھرنے پر تحفظات کا شکار

فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی عدم موجودگی کے باعث  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی )غیر فعال ہوکر رہ گئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ساڑھے تین ماہ سے نہیں ہوسکا،آخری اجلاس 14فروری کو ہوا تھا۔

پی اے سی سیکریٹریٹ ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ پی اے سی کی سترہ سب کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ سب کمیٹیوں کے اجلاس تو ہوئے مرکزی کمیٹی کا آخری اجلاس 14 فروری کو ہوا تھا۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ شہباز شریف نے رانا تنویر کواپنی جگہ پر  چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی( پی اے سی) تو  نامزد کیا لیکن خود تاحال مستعفی نہیں ہوئے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کو بھی پی اے سی کے غیر فعال ہونے پر تحفظات ہیں۔ پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی سربراہی میں پی اے سی کو پہلے کی طرح متحرک ہونا چاہئے۔

یاد رہے کہ 2مئی کو مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا تنویر حسین کو چیرمین پی اے سی نامزد کردیا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے رانا تنویر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین اور خواجہ آصف کو پارلیمانی رہنما مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہبازشریف جماعت کے رہنما ہیں، ہم انہی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی کی تبدیلی سے روایت نہیں ٹوٹے گی، ہم نے کوئی روایت نہیں توڑی بلکہ تین عہدے  جو کہ یکجا تھے انہیں تقسیم کیا ہے جس سے تمام عہدے موثر انداز میں امور سرانجام دے سکیں گے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کو ان فیصلوں پر اعتماد میں لے چکے ہیں، شہباز شریف بجٹ اجلاس میں شریک ہوں گے، کچھ خاندانی مسائل اور صحت کی وجہ سے انہیں لندن جانا پڑا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس معاملے پر پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے، میثاق جمہوریت کے مطابق چیئرمین پی اے سی اپوزیشن سے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے:ن لیگ کا رانا تنویر کو چیئرمین پی اے سی بنانے کا فیصلہ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز