’پی ٹی ایم کا ایجنڈا مسائل کا حل نہیں پیدا کرنا ہے‘

اسلام آباد: لیفٹینیٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا ہے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ماضی میں کئی مطالبات سنے جاتے رہے ہیں لیکن ہمیشہ یہ ان میں اضافہ کردیتے ہیں، اس کا مطلب ان کا ایجنڈا مسائل کرانا نہیں پیدا کرنا ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیاء سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پشتین موومنٹ کو افغانستان کی حمایت حاصل رہی ہے اور اس میں اب شک کی گنجائش نہیں رہی۔

لیفٹینیٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ قوم سمجھتی ہے کہ دفاع پر بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ دفاع کا بجٹ کم کردیا جائے تو بقیہ سوشل سیکٹرز پر توجہ دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے، ہم نے 95 ارب ڈالر کے قرضے جمع کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوسرا سب سے بڑا حصہ ترقیاتی بجٹ کا ہوتا ہے اور تیسرے نمبر پر دفاعی بجٹ ہے جو کل بجٹ کا 18 سے 19 فیصد بنتا ہے۔

’بجٹ میں کمی کے باوجود فوج کی صلاحیت میں فرق نہیں پڑے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے پاس بچت کے بہت طریقے ہیں جن پر فوج عمل درآمد کرے گی اور انشاءاللہ ان کی صلاحیتوں پر فرق نہیں پڑے گا۔

لیفٹینیٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر بھارتی میڈیا کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی میڈیا کا جواب دے دیا ہے کہ اس بجٹ سے ہم نے فروری میں آپ کا مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج دفاعی ساز و سامان کے سلسلے میں دیگر ممالک سے جو معاہدے کرتی ہے انہیں عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔

پاکستانی معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی لوگ ٹیکس دینے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود ادا نہیں کرتے اور اسی طرح کئی ادارے بھی پیسے لیک کررہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے پروگرام کے دوران کہا کہ بجٹ میں کمی سے کمزوری ضرور آتی ہے، کمزوری اس لیے آئے گی کہ بھارتی دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر آپریشنل اخراجات میں کمی کی جاسکتی ہے، میرا خیال ہے کہ تنخواہوں کو منجمد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دفاعی ساز و سامان بنانے والے اداروں کو درکار فنڈز ضرور مہیا کیے جائیں۔

پاکستانی معیشت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ سال نگراں حکومت آئی، اس وقت تک معیشت کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کا آسان حل کوئی نہیں، اس میں وقت لگتا ہے تاہم ابھی تک کے اشارے مثبت ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکومت کی غلطی یہ ہے کہ اس نے درست انداز میں معیشت کی پرانی حالت کا انکشاف نہیں کیا کہ ہماری کیا حالت تھی اور ہمیں اسے درست کرنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز