نئے ٹی وی لائسنسز کے اجراء کا معاملہ : پی بی اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

نواز شریف اور مریم کی واپسی، کوریج کے لیے پیمرا کا ہدایت نامہ جاری | humnews.pk

اسلام آباد ہائیکورٹ نے  پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو نئے ٹیلی ویژن(ٹی وی) لائسنسز کے اجراء سے روکنے کے لیے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے )کی درخواست پر فیصلہ محفوظ  کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ پیمرا کی جانب سےعدالت میں تحریری جواب جمع کرادیا گیا ہے ۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹی وی چینلز کے حوالے سے ڈیجٹلائزیشن ہو چکی ہے ۔ ڈیجٹلائزیشن سے 250 چینلز کی گنجائش موجود ہو گی۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئے ٹی وی چینلز کے لیے دیے گئے لائسنسز کی مد میں 5 ارب 29 کروڑ روپے کی رقم حاصل ہوئی ہے۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے )کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پیمرا کی جانب سے کہا جا رہا ہے 250 ٹی وی چینلز کی گنجائش ہے جو کے جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر ڈیجیٹلائزیش مکمل ہو جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پیمرا پہلے چینلز کی گنجائش بڑھائے پھر لائسنس جاری کیے جائیں۔ کیبل آپریٹرز پیسہ لے کر ٹی وی چینلز کو آن آئیر اور آف آئیر کرتے ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل 7مئی کو ہونے والی سماعت میں پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پیمرا 119چینلز کو لائسنس دے چکا ہے جبکہ 80 چینلز کی گنجائش ہے۔

پی بی اے کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے پیمرا کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ پیمرا کو 12 مارچ کے بعد 15 دن میں درخواست پرفیصلہ کرنا تھا۔

فیصل صدیقی نے کہا پیمرا نے ہماری یعنی پی بی اے کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی بجائے لائسنس کی بولی شروع کردی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی بی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ نئے لائسنس جاری کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟

فیصل صدیقی نے عدالت کو  جواب دیا کہ پیمرا کے پاس اتنی گنجائش نہیں جتنے لائسنس جاری کررہاہے۔ پیمرا کے پاس ہماری درخواست یہی ہے کہ جب گنجائش نہیں تو نئے لائسنس کااجرا کیوں کیا جارہا ہے؟

عدالت نے گزشتہ سماعت میں ہی پیمرا کو نئے ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے روک دیاتھا ۔

یہ بھی پڑھیے:پیمرا کو نئے ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے روک دیا گیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز