کچن میں موجود چار ایسی چیزیں جو بنیں کینسر کا باعث

کیا آپ کو معلوم ہے کہ باورچی خانوں میں موجود روز مرہ استعمال کے برتن اور اشیاء سرطان کے موذی مرض کا سبب بن سکتے ہیں، ہم نے ایسے برتنوں اور اشیاء کی فہرست مرتب کی ہے جنہیں ترک کر کے آپ اس مرض سے بچ سکتے ہیں۔

پلاسٹک کی بوتلیں!

پلاسٹک کی بوتلیں بسفینول نامی کیمیکل سے بنائی جاتی ہیں، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کیمیکل انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔

پلاسٹک کی بوتلوں کا روزانہ استعمال انسان کے مدافعاتی نظام کو کمزوراور ہارمونز کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

اسی طرح پلاسٹک کے برتنوں اور بوتلوں کا استعمال موٹاپے کا سبب بھی بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال ترک کر دینا چاہیئے اور س کی جگہ گلاس سے بنے برتن استعمال کئے جائیں۔

صاف تیل (ریفائنڈ تیل)!

خام تیل کو صاف کرنے کے عمل میں ایسے تیزاب کا استعمال کیا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لئے خطرناک ہے۔ بعد ازاں تیل میں موجود تیز بو کو ختم کرنے کے لئے ہیکسانول نامی کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے ۔

جب کھانا بنانے کی غرض سے اس تیل کو گرم کیا جاتا ہے تو یہ ایسے اوکسائڈز چھوڑتا ہے جو انسانی دل کے لئے انتہائی خطرناک ہیں جبکہ یہ سرطان کا بھی سبب بنتا ہے۔

ماہرین صحت ریفائنڈ تیل کی جگہ سرسوں کے تیل کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں۔

نان اسٹک برتن!

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 90 فیصد سے زائد گھروں میں کھانا بنانے کے لئے نان اسٹک برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

زیادہ حرارت پر نان اسٹک برتن کی پی ایف سی بخارات میں تبدیل ہو جاتی ہے ایسے برتن میں بنے ہوئے کھانے سے انسانی جگر اور معدہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ماہرین صحت لوہے سے بنے برتن استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ایلومینیم شیٹ!

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 50 ملی گرام کی موٹائی پر مبنی ایلومینیم شیٹ کا استعمال کیا جانا چاہئے مگر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کھانے کو پیک کرنے کے لئے محض 2 سے 5 ملی گرم ایلومینیم شیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے غیرضروری طور پر زنک انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور دماغی صلاحیت اور ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے۔

ماہرین کاٹن کے کپڑوں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز