آصف زرداری 10روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اسلام آباد کی احتساب عدالت سابق صدرآصف زرداری کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے، انہیں احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔

نیب نے آصف زرداری کے14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو لگ بھگ پون گھنٹے بعد سنادیاگیا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ بنک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ملزم کو گرفتار کیا ہے تفتیش کے لئے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا ہے؟  پہلے یہ بتائیں۔

سردار مظفر عباسی نے آصف زرداری کی  گرفتاری کی بنیاد پڑھ کر سنائی۔

نیب نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے لیے شواہد عدالت میں پیش کردیےاور کہا کہ انکی  گرفتاری کے لیے 8 ٹھوس گراؤنڈز ہیں۔ بادی النظر میں آصف زرداری نے جعلی اکاونٹس میں ٹرانزیکشن کرکے غیرقانونی آمدن کو جائز کرنے کا منصوبہ بنایا۔ آصف زرداری نے فرنٹ مین اور بےنامی داروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔

پراسیکیوٹر نیب کے پارک لین اور پرتھنون کمپنیوں کے ذکر پر فاروق ایچ نائیک  نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارک لین کا آصف زرداری اور اس کیس میں کیا تعلق ہے؟

سردار مظفر نے کہا کہ ایف آئی آر میں دونوں کا ذکر ہے، میں دستاویزات سے بتا دیتا ہوں کیا تعلق ہے،پیسے پارک لین کی فرنٹ کمپنی پارتھنون کو آتے رہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا شفاف تفتیش ہی شفاف ٹرائل ہوتا ہے،اس عدالت کو گمراہ نہ کیا جائے۔

سردار مظفر نے کہا فاروق نائیک مجھ سے بہت سینئر ہیں اگر یہ پہلے بولنا چاہتے ہیں تو بول لیں۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس کراچی کی عدالت سے اس عدالت کو منتقل ہوا،اس عدالت نے آصف زرداری کے مچلکے وصول کیے۔جب کیس اس عدالت میں ہے تو کیا چیئرمین نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ وارنٹ گرفتاری جاری کرے؟

زرداری کے وکیل نے کہا چیئرمین نیب کے پاس انکوائری اور تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار ہوتا ہے،اس کیس میں وہ وقت گزر چکا اب ریفرنس دائر ہو چکا ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کو تفتیش کے لئے دو ماہ کا وقت دیا۔سپریم کورٹ سے ہمیں کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ نے مدت میں توسیع کی ہے۔ہمیں تاحال وارنٹ گرفتاری اور گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئیں۔

آصف زرداری کا پرتھنون کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ وہ اس کے ڈائریکٹر ہیں۔یہ چار ارب روپے کی بات کرتے ہیں میرے موکل پر ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈالا گیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ گنے کی سپلائی کی رقم ہے اس کے دستاویزات ہائی کورٹ میں بھی جمع کرائیں۔ آصف زرداری کو گرفتار کر کے نیب نے اس عدالت کی توہین کی ہے۔اس کیس میں دیگر ملزمان کے مچلکے عدالت نے منظور کیے ان کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے۔

آصف زرداری کے وکیل نے کہا یہ قانون کی خلاف ورزی ہے، قانون کہتا ہے کہ تمام ملزمان سے برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔اس کیس کے مرکزی ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا، میرے  موکل پر تو صرف ڈیڑھ کروڑ روپے کا الزام ہے۔

عدالت آصف زرداری کے ورانٹ گرفتاری کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دے۔

جج ارشد ملک نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا جب ریفرنس دائر ہو گیا تو وارنٹ جاری کرتے وقت اس عدالت سے اجازت نہیں لینا ہو گی؟

فاروق ایچ  نائیک کمرہ عدالت میں جذباتی ہو گئے اور کہا کل مجھے ہائیکورٹ میں فوٹو کاپیاں کروانے بھیجا گیا، مجھے کہا گیا آپ نے جن مقدمات کے حوالے دیئے ان کی نقول فراہم کریں۔میں فوٹو کاپی کروا رہا تھا کہ پیچھے فیصلہ سنا دیا گیا،میں کہاں جاؤں کس سے انصاف لوں؟

جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ  میرے ذہن میں یہ بات ہے کہ نیب نے اس عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی۔ ریفرنس اس عدالت میں چل رہا ہے تو نیب کو اس عدالت سے اجازت لینی چاہیے تھی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا بات یہ ہے کہ نیب نے اس عدالت کو اعتماد میں بھی نہیں لیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا نیب نے خود ہی گرفتار نہیں کیا بلکہ ہائیکورٹ نے ضمانت خارج کی تو گرفتار کیا گیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا پھر عدلیہ کی آزادی کہاں گئی؟اگر اس عدالت نے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجا ہو اور دوسرے کیس میں تحقیقات کرنی ہوں تو اس عدالت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔

جج ارشد ملک نے فاروق ایچ نائیک سے مخاطب ہو کر کہا میں آپ کے دلائل سے پہلے بھی اسی بات کو سوچ رہا تھا۔میں نے مچلکے منظور کیے تو معلوم کیا تھا کہ کیا وارنٹ جاری کیے ہیں؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تب انہوں نے مچلکے لینے کے عدالتی فیصلے کی مخالفت بھی نہیں کی۔

آصف زرداری نے نیب حوالات میں اضافی سہولیات کی درخواست دائر کر دی۔

آصف زرداری نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایک ذاتی خدمت گزار ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائےاورمیڈیکل کی بھی تمام سہولیات مہیا کی جائیں۔

آصف زرداری نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ  شوگر کے مریض ہیں اور رات کو انکی شوگر لو ہو جاتی ہے، اٹینڈنٹ دیا جائے جو رات کو شوگر چیک کرے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ ان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور ہمارا اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، اس عدالت کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

آصف زرداری نے کہا اٹینڈنٹ 24 گھنٹے انکے پاس بیٹھا نہیں رہے گا جب ضرورت ہو گی تو اس کو بلایا جائے گا۔

عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا  جو کچھ دیر بعد سنایا جائیگا۔

پولی کلینک کے میڈیکل بورڈ نےپیشی سے قبل  آصف زرداری کو جسمانی ریمانڈ کیلئے فٹ قرار دیا۔

سابق صدرآصف علی زرداری کو ایک ایمبولینس اور 19گاڑیوں کے حصار میں نیب راولپنڈی آفس سے نیب کورٹ روانہ  کیا گیا۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ سے انکی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ نیب کے تفتیشی افسران نے آصف زرداری سے پوچھ گچھ کا سلسلہ گزشتہ رات ہی  شروع کر دیاتھا۔ پہلے ہی روز آصف زرداری سے تقریبا تین گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔

آصف زرداری سے پارک لین کیس، واٹر سپلائی اور سولر کے غیرقانونی ٹھیکوں سے متعلق تفتیش کی گئی۔ سابق صدر سے بحریہ ٹاؤن اور زرداری گروپ کے درمیان معاہدوں سے متعلق بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

نیب راولپنڈی کے آفس میں آصف زرداری کو علیحدہ سیل میں رکھا گیا ۔میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کی ابتدائی طبی رپورٹ تسلی بخش قرار دی۔

آصف زرداری کو آج  احتساب عدالت پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

نیب کی جانب سے آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی، اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اندراور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور 300 اہلکار نیب راولپنڈی آفس کی سیکیورٹی جبکہ نیب عدالت کے باہر500اہلکار اور نیب راولپنڈی آفس سےنیب عدالت تک 200ٹریفک اہلکار تعینات رہیں گے۔

نیب راولپنڈی کے دونوں اطراف کی سٹرکیں مکمل بند رہیں گی جبکہ نیب عدالت کےجی الیون روڈبھی سیکیورٹی کی وجہ سےبندرہےگی اور نیب عدالت اور نیب راولپنڈی کے باہر رینجرز اہلکارگشت پر مامورہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے:نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا

پی پی کارکنان آئے تو آبپارہ چوک سےآگےجانےکی اجازت نہیں ہوگی ، پی پی کارکنان نیب عدالت پہنچےتوان کوپراجیکٹ موڑپرروک لیاجائےگا۔

ادھر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی جیل یاتراپی ٹی آئی  کے انتخابی وعدوں کا
اہم ترین باب تھا۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے لکھا کہ ’’دس سالوں میں اربوں روپے کی ہیر پھیر کرنیوالے گروہوں کے سر غنہ جیل پہنچے، یہ معمولی بات نہیں۔ اب اگلا مرحلہ ریکوری کا ہونا چاہئے جہاں وہ رقوم جو ملک سے باہر ٹھکانے لگائیں گئیں وہ واپس ہوں۔‘‘
متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز