بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار

لندن: متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لندن میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت نے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم  نے صبح سویرے بانی ایم کیوایم کےگھرپرچھاپا مارا اور انہیں گرفتار کرکے مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔

لندن پولیس نے بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے اعلامیے میں بتایا کہ ساٹھ سالہ شخص کو نارتھ ویسٹ لندن سے سیکشن 44 سیریس کرائم ایکٹ 2007 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق لندن پولیس کے تفتیشی افسران نے ایجویر روڈ پر واقع ایم کیو ایم کے مرکز کی بھی تلاشی لی ہے۔ گرفتاری مختلف تقاریر کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔

بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مقامی پولیس کا انسداد دہشت گردی کا ونگ اگست 2016 میں کی جانے والی تقریر کی تفتیش کررہا ہے۔

گرفتار شخص کو سائوتھ لندن پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے اور نارتھ ویسٹ لندن میں اس کی رہائشگاہ پرسرچ آپریشن جاری ہے جب کہ خفیہ تحقیقاتی ٹیمیں نارتھ ویسٹ لندن میں کمرشل پتوں پر بھی چھاپے مار رہی ہے۔

اسکارٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار شخص کواگست 2016 میں ایک تقریر کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، گرفتار شخص کی گزشتہ تقاریر کی بھی تحقیقات کی گئیں اور تمام تحقیقات کے دوران پاکستانی حکام کے ساتھ بھی رابطہ رکھا گیا۔

خیال رہے کہ 2016 میں بانی ایم کیو ایم نے پاکستان مخالف تقریر کی تھی جس کے بعد کراچی کے حالات بگڑ گئے تھے۔

لندن مین موجود نمائندہ ہم نیوز کے مطابق نفرت انگیز تقریر کی پاداش میں برطانوی قوانین کے تحت چھ ماہ سے تین سال قید ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل بھی الطاف حسین سے منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بھی تفتیش کی گئی تھی۔

پاکستان کے سینیئر صحافی عامر ضیا نے اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا اس گرفتاری کے بعد کراچی میں بد امنی کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی کیوں کہ  ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت پہلے ہی لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین برطانوی شہری بھی ہیں اور اس صورتحال میں انہیں پاکستان لانا بہت مشکل ہوگا۔

ندیم ملک کا ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا بانی ایم کیو ایم کو2016 میں پاکستان مخالف تقریر کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ اور ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں اسکارٹ لینڈ یارڈ کی ساکھ اچھی نہیں رہی، لہذا الطاف حسین کے مستقبل پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کوئی بد امنی پیدا نہیں ہوگی کیوں کہ گزشتہ تین سال میں حالات بہت بدل چکے ہیں اور ایم کیو ایم تقسیم ہوچکی ہے۔ 2016 کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے لندن قیادت سے الگ کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز