فیسوں سے متعلق عدالتی فیصلے کے باوجود نجی اسکولوں کی من مانیاں جاری

اسلام آباد : پاکستان کی عدالت عظمی کی طرف سے فیسوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ دیے جانے کے باوجود نجی اسکولوں کی من مانیاں جاری ہیں۔

بچوں کے والدین نے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا)کے آگے شکایتوں کے انبار لگا دیے۔ پیرا میں آنے والی شکایتوں کی تعداد 2 ہزار 5 سو سے تجاوز کر گئی ہے ۔

پیرا ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ یہ تمام شکایات وزیراعظم شکایت سیل کے ذریعے موصول ہوئیں۔

نجی اسکولوں کی زائد فیسوں کی وصولی پر پیرا بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق نجی اسکولوں نے ٹیوشن فیس گھٹا کردیگر مدات میں اضافی رقم وصول کرنے لگ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں میں زائد فیسیں وصول کرنے سے متعلق  1 ہزار سے زائد شکایتیں ملی ہیں۔ نجی اسکولوں سے متعلق روزانہ 70 سے 80 شکایتیں موصول ہو رہی ہیں۔

پیرا ذرائع کا کہنا ہے کہ اثر و رسوخ کے باعث نجی اسکول پیرا کے احکامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

پیرا نے عدالت کی جانب سے تحریری احکامات موصول ہونے کے بعد نئی حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت زائد فیسیں وصول کرنے والے نجی اسکولوں کو حتمی نوٹس بھیجا جائیگا۔

پیرا کی طرف سے اسلام آباد شہر کے 14 سو سے زائد نجی اسکولوں کی نگرانی کا فیصلہ سامنے آیاہے۔ نوٹس پر عمدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جائیگا۔

خلاف ورزی کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی جائے گی۔ 237 سے زائد نجی اسکولوں نے عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہوئی تھی جو آج عدالت کی طرف سے مسترد کرد گئی ہے ۔ نجی اسکولوں کی جانب سے دائر درخواستوں کے باعث پیرا نے  ایکشن نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیے: نجی اسکول فیس میں سالانہ پانچ فیصد ہی اضافہ کریں، سپریم کورٹ

واضح رہے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والے پاکستانیوں کے لیے عدالت عظمی سے اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ نجی اسکولوں کی فیسوں میں  سالانہ پانچ فیصد ہی اضافہ ہوگا،فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیاہے۔

عدالت عظمی نے نجی اسکولوں کے حق میں آنے والا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کےفل بنچ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے فیسوں میں بیس فیصد کمی سمیت تمام عبوری حکم بھی واپس لے لیے۔

عدالت نے نجی اسکولوں کو فیسوں کی  کمی سے لیکر آج تک کم شدہ فیس بطوربقایاجات لینے سے بھی روک دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نجی اسکول  قانون کے مطابق ہی فیس وصول کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز