اجازت کے باوجود مودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کریگا؟


اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ہوا بازی (ایوی ایشن ڈویژن) غلام سرورخان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کرغزستان کے دورے کے لیے خاص طور پر جذبہ خیر سگالی کے تحت فضائی حدود کھولی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے ایوی ایشن ڈویژن کو درخواست موصول ہوئی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرکے فضائی حدود کھولنے کا کہاہے ۔

غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن چاہتا ہے۔مشرقی باؤنڈ ائیراسپیس خطے میں کشیدگی کی وجہ سے بند تھی،اس سلسلےمیں اٸیر انڈیا B 747 400 استعمال کرے گا۔ ایئر سپیس کھلنے سے ایئر انڈیا کا جہاز 13جون کو نئی دلی سے بشکیک جائے گااور چودہ جون کو بشکیک سے نئ دلی آئے گا۔یہ ائیراسپیس 72 گھنٹوں کے لیے کھولی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ  راستہ کھلنے سے نئی دلی اور بشکیک کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہو جائے گا۔ہماری فضائی حدود کے بند ہونے سے بھارت کو زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

ادھر بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ  شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے کرغیز جمہوریہ کے دارالحکومت بشکیک جانے کے لئےبھارتی  وزیراعظم نریندرمودی کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کریگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پی ایم مودی کے طیارے کے راستے کے بارے میں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بشکیک جانے کے لئے وزیراعظم کے طیارے کے لئے دو راستوں کے متبادل کو تلاش کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کا طیارہ عمان ،ایران اور وسطی ایشیائی ملکوں کے فضائی علاقوں سے گزرتا ہوا بشکیک پہنچے ۔

پہلے وزارت خارجہ کے افسران نے پی ایم مودی کے طیارے کے راستے پر کیے گئے سوالوں کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا تھا کہ وزیراعظم کی سلامتی کے پیش نظر سفرکا راستہ عام نہیں کیا جاسکتا۔

پی ایم مودی 13 اور 14 جون کوشنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ملکوں کے سربراہان مملکت کی کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے آج رات بشکیک روانہ ہوں گے جہاں ان کی روس کے صدر ولادیمر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ بھی ہوگی۔

بشکیک میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ رسمی یا غیر رسمی میٹنگ کے امکان بارے  پوچھے جانے پر بھارتی وزارت خارجہ حکام نے واضح کیا کہ پی ایم مودی کی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مودی کو پاکستان سے گزرنے کی اجازت

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز