پنجاب: پانچ ماہ میں 503 بچوں و بچیوں سے ’ بچپن‘ چھن گیا

پنجاب: پانچ ماہ میں 503 بچوں و بچیوں سے ’ بچپن‘ چھن گیا

لاہور: پنجاب میں معصوم بچوں و بچیوں کے ساتھ زیادتی اور بدفعلی کے ’سوہان روح‘ واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران بچوں و بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 503 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں پانچ ماہ کے دوران صرف بچوں سے بدفعلی کے 338 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل بھی کیا گیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے تحت پانچ ماہ کے دوران 161 معصوم و کمسن بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تین بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل بھی کردیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 76 بچوں سے ان کی ’ معصومیت‘ لاہور میں چھینی گئی۔ اسی طرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بھی لاہور کو اولیت حاصل رہی ہے۔ لاہور میں 37 بچیوں سے ان کا ’بچپن‘ زبردستی چھین لیا گیا۔

افسوسناک امر ہے کہ سرکاری سطح پر رپورٹ ہونے کے باوجود ’ثبوتوں‘ کی کمی یا عدم دستیابی کے سبب 27 مقدمات خارج کردیے گئے۔

ہم نیوز کے مطابق زیادتی اور بدفعلی اور کے 174 مقدمات میں تفتیش تاحال جاری ہے جب کہ پولیس نے 301 مقدمات میں ملزمان کا چالان پیش کیا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں اور بچوں کے حقوق و تحفظ کے لیے سرگرم سماجی رہنماؤں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ زیادتی اور بدفعلی کے پیش آنے والے حقیقی واقعات میں سے بمشکل چند فیصد ہی کی رپورٹس درج کی جاتی ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین کا مؤقف ہے کہ ہماری سماجی و معاشرتی ’جکڑبندیوں‘ کی وجہ سے زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں اور اگر رپورٹ ہو جائیں تو بعد میں قبائلی، علاقائی، برادری، سیاسی یا گروہی بنیادوں پر ڈالے جانے والے ’دباؤ‘ کے نتیجے میں واپس لے لیے جاتے ہیں اور یا پھر گواہان ہی مکر جاتے ہیں جس کی وجہ سے مجرمان کو ملنے والی سزاؤں کا تناسب نہایت کم ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز