قومی اسمبلی:بجٹ پر بحث شورشرابے اور ہنگامے کی نذر

اپوزیشن کا ڈیم فنڈ کی تفصیلات قومی اسملبی میں پیش کرنے کا مطالبہ


اسلام آباد: آج بجٹ پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا  اجلاس شروع ہوا تو آغاز ہی میں شور شرابہ ہوگیا۔  شہباز شریف کو ڈائس دینے پر شیریں مزاری نے احتجاج کیا تو اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کو اجلاس 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑگیا۔ وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو بھی شورشرابہ جاری رہا۔

ڈپٹی اسپیکر نے فلور شہباز شریف کو دیا،شہباز شریف کھڑے ہی ہوئے تو مولانا اسعد محمودبھی کھڑے ہوگئے۔ حکومتی ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔
شہباز شریف نے کہا میں حاضر ہوں آپ ہاوس کو آرڈرمیں لیکر آئیں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نےحکومتی اور اپوزیشن اراکین سے کہا کہ آپ لوگ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ کوئی حکومتی رکن نشست پر بیٹھنے کو تیار نہیں ہوا۔

احسن اقبال حکومتی ارکان کی ویڈیو بنانے  لگے تو ڈپٹی اسپیکر نے احسن اقبال کا کیمرہ لینے کا حکم دے دیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا حنا ربانی بھی ویڈیو بنارہی ہیں ان سے بھی فون لے لیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے اراکین کو نشستوں پر بیٹھنے کے لیے اپیل شروع کردی اور کہا مہربانی کریں اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے دیں۔

شہباز شریف نے کہا ہم چاہتے ہیں کے کارروائی آگے چلے،مولانا اسعد ناموس صحابہ پر بات کرنا چاہ رہے ہیں۔آپ میری جگہ مولانا صاحب کو موقع دیں ۔
ڈپٹی اسپیکر نے کہا مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے بیس منٹ سے آپ سے کہہ رہا ہوں میاں صاحب بات کریں ۔اپوزیشن تقسیم ہے آپ کو تقریر نہیں کرنے دے رہی ہے ۔25 منٹ سے کہہ رہا ہوں تقریر کریں۔

شہباز شریف نے کہا اس شرط پر تقریر کا آغاز کررہا ہوں کے میرے بعد آپ مولانا کو موقع دیں گے۔

شہباز شریف نےبجٹ پر بحث کے آغاز میں کہا  تحریک انصاف کی دھاندلی زدہ حکومت نے پہلا بجٹ دیا ہے۔ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی زدہ حکومت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کنٹینر پر بلند وبانگ دعوے کیے گئے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کا جھوٹ عوام کے سامنے آچکاہے۔ منی بجٹ کے باعث ملکی معیشت تباہ ہوئی ۔

حکومتی ارکان نے اسی دوران ایل این جی ، ایل این جی کے نعرے لگانے شروع کردیے ۔

حکومتی ارکان کے شورشرابے کی وجہ سے شہباز شریف اپنی تقریر بند کردی اور ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس  پیرتک ملتوی کردیا۔


وقفے سے قبل اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی اجلاس میں راجہ پرویزاشرف کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا موقع دیا۔ جس پر حکومتی ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا۔

ایک وقت میں ہی راجہ پرویز ۔ احسن اقبال اور فواد بات کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔

راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے کی اجازت  کا کہنا تھا حکومت تو کنٹینر دینے کی بات کرتی تھی، اب تو حکومتی ارکان اپوزیشن کو ڈائس دینے کو تیار نہیں ہیں۔

کراچی کے حکومتی اراکین نے راجہ پرویز اشرف کے خطاب کے دوران ایوان میں کراچی کو پانی دو کے نعرے لگا دیئے۔اس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے وہاں جاکر بات کریں۔

یہ بھی پڑھیے: سابق اور موجودہ چیئرمین سینیٹ آمنے سامنے آ گئے

اسد قیصر نے ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا اسی طرح کا رویہ جاری رہا تو اجلاس ملتوی کر دوں گا۔

قومی اسمبلی میں شورشرابے کی وجہ سے اسپیکر نے اجلاس دو بجے تک ملتوی کردیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز