وزراء نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے ایوان کی کارروائی خراب کرنے کا کہا،خواجہ آصف


اپوزیشن رہنماؤں نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی اراکین کی طرف سے شور شرابے اور ہنگامے کی شدید مذمت کی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ اجلاس جاری رہے۔

پارلیمنٹ ہائوس کے باہر متحدہ اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ  حکومتی وزرا اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے شور مچاتے ہیں۔ یہ کنٹینر پر جوزبان استعمال کرتے تھے آج وہ ایوان میں بول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا کہ حکو متی پارٹی  نے اجلاس کو خراب کیا،اگر ایوان سپیکر سے نہیں سنبھلا تو یہ کسی صورت بھی پارلیمان کے لیے اچھا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا وزراء نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے ایوان کی کارروائی خراب کرنے کا کہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا ہمیں جو قیمت بھی ادا کرنا پڑی کرینگے آئین ،پارلیمان اور عدلیہ کے تقدس کے لیےہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ جس چیز سے متعلق علم نہ ہو اس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئیے،وزیر اعظم نے رات 12 بجے پتہ نہیں کس کیفیت میں بات کی؟

انہوں نے کہا کہ آج یہ ہمیں بد تمیزی کا طعنہ دیتے ہیں جو اس پارلیمنٹ کے لان میں بستر بچھاتے تھے اور کپڑے سکھاتے تھے،  ڈی چوک کو ٹائلٹ بنایا ہوا تھا،

خواجہ محمد آصف نے کہا  پاکستان کی عوام کو سولی پر چڑھا رہے ہیں،اس طرح نہیں چلے گا،انہوں نے کہاسپریم کورٹ میں کیا ہو رہا ہے؟تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ ہم نے آئینی اداروں کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:قومی اسمبلی:بجٹ پر بحث شورشرابے اور ہنگامے کی نذر

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ بجٹ پر بات نہیں ہونے دینا چاہتے،ایک اسپیکر ایوان کو آرڈر میں نہیں رکھ سکتا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکمران عوام کو  روک نہیں سکتے،رات کو 12 بجے کس حالت میں پاکستان کا وزیر اعظم آ کے بولتا ہے؟اس سے زیادہ قابل مذمت بات نہیں کہ وزیر اعظم کو تاریخ کا علم نہیں ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو بات نہیں کرنے دی گئی،انہوں نے تمام روایات کو پامال کیاہے۔ اسپیکر کے پروڈکشن آرڈر جاری کر نے کا آصف علی زرداری انتظار کر رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر اعظم کوقوم سے خطاب میں کی گئی اپنی متنازعہ بات پرمعافی مانگنی چاہئیے،توبہ کے دروازے بند نہیں ہوتے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ان کے رہنماوں کو پیسے دیے بغیر جانے دیا جائے،ان کا ایک بیانیہ  ہے کہ ہمارے ابو چھوڑ دو،ہمارے پاپا چھوڑ دو۔

فواد چودھری نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن والےایوان میں  حماد اظہر کے ساتھ ہونے والی بد تمیزی پر معذرت کریں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز