سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 28ریفرنسز زیر التوا ہیں، ترجمان

ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ  کی طرف سے  سپریم جوڈیشل کونسل میں 350 ریفرنسز زیرالتوا ہونے سے متعلق خبروں اور افواہوں کی تردید کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں 2 صدارتی ریفرنسز سمیت 28 ریفرنسز زیرالتوا ہیں۔

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق زیرالتوا ریفرنسز پرقانون اورضابطے کے مطابق سماعت کے بعد فیصلہ کیا جائیگا۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے 350 ریفرنسز زیرالتوا ہونے کا تاثر دیا گیا،350 ریفرنسز کا تذکرہ بار بار کیا گیا۔350 کے اعدادو شمار غلط،بے بنیاد اورحقائق پرمبنی نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کے ترجمان نے کہاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو426 شکایات اورریفرنسز موصول ہوئے،قانون کے مطابق 398 ریفرنسز اور شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کی ابتدائی سماعت ہوئی۔ کونسل کی طرف سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جاری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اٹارنی جنرل انور منصور خان پیش ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے  ریفرنسز سے متعلق حکومتی موقف سے آگاہ کیا۔

جسٹس گلزار احمد اور جسٹس عظمت سعید بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ پشاور سے جسٹس وقار احمد سیٹھ اور سندھ ہائیکورٹ سے جسٹس احمد علی شیخ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

عدالت عظمی کے رجسٹرار ارباب عارف کونسل کے سیکرٹری ہیں۔

اجلاس کی ابتدائی کارروائی میں ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  پر انکی اہلیہ کے بیرون ملک اثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔ حکومتی ریفرنس میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کی سماعت

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز