حکومت کا اکنامک سیکیورٹی کونسل بنانے کا فیصلہ


اسلام آباد: سینئر صحافی  محمد مالک نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے اکنامک سیکیورٹی کونسل بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ جو معاشی پالیسیوں اور عالمی معاہدوں پر نظر ثانی کرے گی۔

ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اس کونسل کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں آرمی چیف اور سیکرٹری فنانس سمیت ایک ٹیکنیکل ٹیم ہو گی جس میں کسی بھی وزیر کو شامل کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ یہ کونسل عالمی معاہدوں کی منظوری سے متعلق فیصلہ کرے گی۔

اس موقع پر پروگرام کے مہمان چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ میں اس بات کو ماننے کو تیار نہیں کہ موجودہ شرح سود پر کاروبار چل سکے۔ حکومت کو شرح سود کم کرکے گروتھ ریٹ کو بڑھانا چاہیے لیکن یہ تو شرح سود کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود بڑھانے سے کرپشن اور چوریاں بڑھیں گی جس طرح افغان ٹرانزٹ کی آڑ میں کرپشن کی گئی۔ حکومت نے بغیر سوچے سمجے ہر جگہ پر ٹیکس لگا دیے ہیں جس سے ملک میں بڑا بحران پیدا ہو گا۔

سراج قاسم تیلی نے کہا کہ صنعت پر جس طرح ٹیکس لگ رہا ہے اس کا کوئی نظام نہیں بنایا گیا اور صنعت سے جو کام لیا جا رہا ہے وہ اس کا نہیں ہے وہ ایف بی آر کا کام ہے۔ ملک میں صنعت لگے گی تو نوکریاں پیدا ہوں گی اور معاملات آگے بڑھیں گے لیکن یہ سب کچھ رک گیا تو معاملات آگے کیسے چلیں گے ؟ حکومت کو صنعتوں کے مسائل حل کرنے ہوں گے۔

انہوں ںے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ایف بی آر کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکے تو صنعت شدید متاثر ہو گی جبکہ درآمد پر بھی 2 سال کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے اس سے آپ کی معیشت میں بہت فرق آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں انرجی میں کرپشن کا جن بوتل میں بند کیے بنا نیا پاکستان بنانا ممکن نہیں، محمد مالک 

ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ حکومت کو شرح سود کو بڑھائے بغیر روپے کی قیمت کو گرنے سے بچانا ہو گا۔ حکومت شرح سود کو بڑھائے بغیر بحران پر قابو پائے لیکن ہمیں تو یہاں حکومت کی پالیسی تباہ کن نظر آ رہی ہے، اب حکومت کو مزید ڈکٹیشن نہیں لینی چاہیے ورنہ غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اکتوبر میں وزیر اعظم کو آگاہ کیا تھا کہ اگر آپ کا گروتھ ریٹ بڑھ گیا تو ملک میں مزید تباہی بڑھے گی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو ڈسکاؤنٹ ریٹ کا اندازہ ہی نہیں کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھانے سے قیمتوں میں کمی نہیں ہو گی۔

اشفاق حسن نے کہا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو ملکی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کا ملک میں نہ تو کاروبار ہے اور نہ ہی خاندان۔ وہ تو ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، اگر ملک میں بحران آیا تو وہ اپنا بریف کیس اٹھا کر واپس چلے جائیں گے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ حکومت کے پاس اتنے ڈالرز نہیں ہیں کہ وہ ڈالر کی قیمت طے کر سکے۔ جو چیز آپ باہر سے منگواتے ہیں تو وہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے آپ کو مہنگا ہی ملے گا جس سے مہنگائی خود بخود بڑھ جائے گی۔ افراط زر قابو میں نہ رہا تو شرح سود خود بخود بڑھے گا لیکن اگر افراط زر قابو میں رہا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت میں ایف بی آر کا کلیدی کردار ہے لیکن اگر ایف بی آر کا نظام درست نہیں کیا گیا تو بڑے مسائل پیدا ہوں گے اور اب یہ شبر زیدی کو دیکھنا ہے کہ وہ اس ادارے کو کس طرح ٹھیک کرتے ہیں اور کاروباری افراد کو کس طرح لے کر چلتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز