’جون کے آخری ہفتے میں اے پی سی کا انعقاد کریں گے‘

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے دوران حکومت مخالف تحریک اور کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) پر مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے دوران راجہ پرویز اشرف، خورشید شاہ، غفور حیدری اور  دیگر رہنما م موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان سے اے پی سی پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا الگ نظریہ ہے تاہم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف احتجاج میں جے یو آئی نے ساتھ دیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلیوں کے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان ہورہا ہے، ان حکمرانوں کو نکالنا ہوگا۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پارلیمان کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حکم پربجٹ بنایا گیا ہے اور ہم اس کو منظور نہیں ہونے دیں گے تاہم اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مل کرکام کرنا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کا اپنا اپنا نظریہ ہے تاہم دونوں جماعتوں نے مل کر آئین بنایا اور مشرف کے خلاف بھی ملکر جدوجہد کی اور اب بھی کٹھ پتلیوں کے خلاف مل کر جدوجہد کریں گے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کے موقف کی تائید کرتا ہوں کہ غریب آدمی راشن خریدنے کے قابل بھی نہیں رہا، حکومت نے غریب دشمن بجٹ پیش کیا ہے اور معاشی طور پر ہمیں غلام بنادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے بھی اتنے قرضے نہیں لیے، حکومت کا خاتمہ قوم کی نجات کا راستہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ جون کے آخری ہفتے میں کل جماعتی کانفرنس کریں گے اور اس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں شریک ہوں گی جس کے بعد تمام جماعتوں کا متفقہ ردعمل سامنے آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس لیے نہیں بنا کہ قوم کی مرضی کے خلاف حکومت مسلط کی جائے۔

’پیپلز پارٹی، ن لیگ کے مزید لوگوں کے گرفتار ہونے کا امکان‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے مزید لوگوں کے گرفتار ہونے کا امکان ہے۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈالر کا ریٹ 157 روپے ہوگیا ہے، بتائیں غریب کہاں جائے گا؟ یہ بجٹ پاکستان کا نہیں، یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دور معاشی طور پر غلامانہ دور ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز