لاہور ہائیکورٹ:خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد

خواجہ برادران کو نیب نے گرفتار کرلیا | humnews.pk

فوٹو: ہم نیوز

لاہورہائیکورٹ نے  رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور رکن صوبائی اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کی درخواست ضمانت پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے ۔

خواجہ برادران کے وکیل نے آج اپنے دلائل میں کہا کہ پیراگون سے انکے مؤکلان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ندیم ضیا اور قیصر امین بٹ دوست ہیں پارٹنر نہیں۔ قیصر امین بٹ کا دو بار جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دلوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی تاریخ میں آج تک ایسی مثال موجود نہیں کہ کسی ملزم کا مجسٹریٹ کے سامنے ایک بیان کے بعد دوسرابیان  کروایا گیا ہو۔ نیب نے قیصر امین بٹ کے بیان کو پہلے مسترد کروایا ہھر مرضی کا بیان دلوایا۔

خواجہ برادران کے وکیل نے کہا کہ قیصر امین بٹ کو معافی دے کر واپس لی گئی اور دوبارہ بیان کروایا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ دوسری بار قیصرامین بٹ کا بیان لینے کی وجہ کیا تھی؟

خواجہ برادران کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلا بیان چیئرمین نیب کی مرضی کا نہیں تھا اس لیے دوبارہ بیان لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تین سال خواجہ برادران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری چلی۔ انکوائری کسی پرائز بانڈ کی وجہ سے بند نہیں ہوئی۔ یہ انکوائری نیب نے بند کرتے ہوئے اس وقت معذرت بھی کی تھی ۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ اثاثوں پرخواجہ برادران کی انکوائری پرائزبانڈ نکلنے کی بنا پرختم کردی گئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ پرائز بانڈ کا انکوائری سے کیا تعلق ہے، بانڈ کتنے کے نکلے۔

وکیل نیب نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری 48 ملین کے بانڈ نکلنے پر ختم کی گئی، خواجہ برادران کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے بانڈ نکلے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیراگون غیر قانونی اسکیم ہے، ٹی ایم اے نے اسکیم کوعبوری منظور کیا، ایل ڈی اے نے پیراگون کی منظوری کی درخواست مسترد کی تھی۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ نقشوں پر پلاٹ فروخت کرکے لوگوں سے پیسے ہتھیاتے رہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مطمئن کرنے کے لیے پیراگون انتظامیہ نے خوش نما اشتہارات دیے؟

وکیل نیب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار کینال کی اسکیم غیرقانونی طور پر 7ہزار کینال تک پھیلا دی، لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اسکیم غیر قانونی تھی تو ایل ڈی اے نے کیا کارروائی کی؟

یہ بھی پڑھیے:خواجہ برادران کو آج بھی ضمانت نہ مل سکی

نیب کے وکیل نے کہا کہ ایک بھائی ریلوے کا وزیراور دوسرا بھائی صحت کا وزیرتھا، بااثر افراد کے خلاف ایل ڈی اے کیسے کارروائی کرتا؟

خواجہ برداران کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بجٹ اجلاس کے باعث عبوری ضمانت منظورکی جائے، اجلاس میں تجاویزکے لیے ماہرین سے مشاورت ضروری ہے، درخواست ضمانت پرحتمی فیصلے تک عبوری ضمانت منظورکی جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز