حساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کی جائے ، آصف زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اور اگر پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم ملکی معیشت سنبھالنے کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ جب ملک میں پاکستان نہ کھپےکا نعرہ لگایا جارہا تھا تو پیپلزپارٹی نے پاکستان کھپے کی بات کی ۔ آئیں ملکر معیشت پرحکومت اور اپوزیشن ملکرکو ئی معاہدہ کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جتنی بڑھائی گئیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا گیا۔صنعتکار خوفزدہ ہیں کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دو،کون کون حساب دے گا ؟

پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اتنا اچھا بجٹ پیش کیاہے تو لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ انڈسٹری والے اور تاجر رو رہے ہیں۔

آصف زردری نے  کہا کہ موجودہ بجٹ میں کوئی صداقت نہیں کہ یہ آپ کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے بنایا ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کہا جارہاہے کہ جن کے بنک اکاؤنٹس میں 5لاکھ روپے ہیں انکو نوٹسز جاری کیے جائینگے۔ یہ کس کس سے حساب لینگے؟  حساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کی جائے ۔

سابق صدر نے کہا کہ انکی گرفتاری سے پارٹی مضبوط ہوگی اور نہ ہی انکے  پکڑے جانے سے فرق پڑیگا۔ ،لوگ سوچتے ہیں اگر زرداری کو پکڑا جاسکتا ہے تو پھر انہیں کیوں نہیں ؟

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی جیل سے آتے رہے ہیں۔آصف زرداری نے حکومت اور عمران خان کا نام لئے بغیر کہا کہ  جو انہیں لائے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہئے،ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں۔

سابق صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لانے والوں اورخود حکومت کو بھی سوچنا چاہیے کہ انکے اقدامات سے ملک چل نہیں پائے گا۔

اانہوں نے کہا کہ بجٹ میں کپاس (کاٹن) پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کاٹن انڈسٹری یعنی کپاس کی صنعت توجہ طلب ہے۔

آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ  ان اراکین قومی اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی ۔

آصف زرداری کی تقریر کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے فلور اسد عمر کے حوالے کردیا ۔

اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سزا اورجزا کا نظام  اگر کسی معاشرے میں نہ ہو تو وہ چل نہیں سکتا۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے نہ صرف اللہ کے ہاں سزا ملیگی بلکہ حکومت کی ذمہ داری اور مینڈیٹ بھی یہی ہے کہ جرم کو روکیں۔جمہوریت کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت کو کئی برسوں تک مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ ہمیں جو اقدامات بھی کرنا ہیں اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے کہ مسلم لیگ ن کی پالیسیوں کی طرح ملک پھر پیچھے چلا جائے۔

سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کہ جو نئی سرمایہ کاری آرہی ہے اس پر ٹیکسز کم کرنا ہونگےتاکہ ملک میں سرمایہ کاری آسکے۔

اسد عمر نے کہا کہ کھادوں کی قیمت بڑھی ہے اس پر حکومت کو سوچنا چاہیے کسان مشکل میں ہے ہمیں کسانوں کا خیال رکھنا ہوگا۔

حکومتی رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے کہا کہ متوسط طبقےکا بھی خیال رکھنا ہے، چینی کی جو قیمتیں بڑھائی گئی ہیں یہ کسی صورت بھی مناسب بات نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس:ایوان میں میثاق معیشت کے تذکرے

انہوں نے کہا کہ چینی غریب لوگوں کی خوراک اور توانائی کا بھی حصہ ہے۔ اسد عمر نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسکی بھی تحقیقات کرے کہ چینی کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئی ہیں۔

اسد عمر نے چینی ، خوردنی تیل اور گھی پر لگائے گئے ٹیکس واپس لینے کی تجویز پیش کردی ۔

اسد عمر نے کہا کہ جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی اس وقت تک آپ کی بین الاقوامی طاقتوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیز کی وجہ ای ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹا جس کو ہم نے بحال کیا۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹی گاڑیوں پر جو ایف ای ڈی لگایا گیا ہے اس پر بھی نظر ثانی ہونی چاہئیے ہم نے جو ایف ای ڈی لگایا تھا وہ بڑی گاڑیوں پر لگایا تھا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں میثاق معیشت کی بات اس سے قبل قائد حزب اختلاف  شہباز شریف بھی کرچکے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری  قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں بھی حکومت کو بھرپور تعاون کی پیش کش کرچکے ہیں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خطاب میں شہبازشریف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کےساتھ میثاق معیشت چاہتےہیں۔پہلے بھی پیش کش کی تھی مگر ہماری پیش کش کوحقارت سے مسترد کردیا گیا۔

اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا تھا کہ میثاق معیشت ہم بھی چاہتے ہیں کیونکہ یہ ملکی ضرورت ہے۔میثاق معیشت کےلیے حکومت سے بات کروں گا۔ اس پرشہبازشریف نے پشتو میں اسپیکر اسد قیصر کا شکریہ بھی  ادا کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز