تجزیہ:بجٹ کی منظوری اور اگر مگر کا کھیل

قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص سیٹوں کا کوٹہ طے ہو گیا | humnews.pk

بجٹ کی منظوری اور اگر مگر کا کھیل دلچسپ تو ہے مگر یہ سب اتنا پیچیدہ بھی نہیں،حکومت کے لئے بجٹ کی منظوری کو بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔دیکھا جائے تو حساب کتاب آسان ہی ہے۔

بجٹ کی منظوری میں اکثر غیر حاضر ارکان اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے اپنے اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنانا اصل چیلنج بن جاتا ہے۔

بجٹ کو فنانس بل کی صورت میں قومی اسمبلی سے منظور کرانا ہوتا ہے اور یہ واحد بل ہے جس کی منظوری ایوان بالا سینیٹ سے لینا ضروری نہیں  ہوتی۔ اگر یہ آئینی تقاضا ہوتا تو پھر یقیناً حکومت مشکل میں آجاتی۔

قومی اسمبلی کی نمبر گیم دیکھیں تو حکومت کو 180 کے لگ بھگ ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں پی ٹی آئی کے 156 اراکین کے علاوہ ایم کیو ایم کے سات مسلم لیگ ق کے پانچ ، بی این پی کے چار اور جی ڈی اے کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔

بی این پی کے چار ارکان حکومت کا ساتھ نہ بھی دیں تو اس کی سادہ اکثریت برقرار رہتی ہےلیکن بجٹ کی منظوری کے لئے اس وقت ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اسپیکر بل کی منظوری کے لئے ارکان سے ہاں ناں میں پوچھیں گے اور اگر اس نتیجے کو چیلنج کیا جاتا ہے تو پھر گنتی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: قومی اسمبلی:بجٹ پر بحث شورشرابے اور ہنگامے کی نذر

ایسی صورتحال میں پارٹیوں کے ایوان سے غیر حاضر ارکان اہمیت اختیار کر جاتے ہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لئے اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنایا ہی اصل چیلنج ہوتا ہے۔کیوں کہ واضح نمبر گیم میں غیر حاضر رہ جانے والے ارکان ہی بجٹ کی منظوری پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز