پنجاب میں ایچ آئی وی کے 8ہزار 308 کیسز ہیں ، ترجمان ایڈز کنٹرول پروگرام

سندھ میں ایڈز، عالمی ماہرین کا وفد آج لاڑکانہ پہنچے گا

فوٹو: فائل

لاہور: پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے صوبے میں  ایچ آئی وی کیسز میں اچانک اضافے سے متعلق خبروں کی  تردید کردی ہے۔

ایڈز کنڑول پروگرام کے ترجمان سجاد حفیظ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ صوبے میں  مریضوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا، قریبی اضلاع کے لوگوں نے ادویات کے لیے رخ ہی فیصل آباد کا کیا۔

سجاد حفیظ نے کہا کہ صوبے میں ایچ آئی وی ایڈز کے 8ہزار 308کیسز ہیں جو پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  2017 اور 2018 میں کوٹ مومن، سرگودھا اور چنیوٹ میں ایڈز کیسز سامنے آئے تھے۔ اسکے بعد ایڈز کنٹرول پروگرام سے مریض رجسٹر کر کےچنیوٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور کوٹ مومن تحصیل ہیڈکوارٹراسپتال میں ایڈز سینٹر قائم کیے گئے۔

ترجمان ایڈز کنٹرول پروگرام نے کہا کہ  متعدد مریض علاج اور ادویات کے لیے بڑے شہر فیصل آباد کا رخ کرتے رہے،فیصل آباد کے قریبی اضلاع کے مریض الائیڈ اسپتال سے دوائیں لیتے اور چیک اپ کرواتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ایڈز کنٹرول پروگرام  میں رجسٹرڈ مریض بائیومیٹرک اور مخصوص شناختی نمبر رکھتے ہیں، آن لائن ڈیٹابیس کے ذریعے مریض پنجاب کی کسی بھی علاج گاہ سے دوا خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب کے پانچ اضلاع میں ایچ آئی وی نے پنجے گاڑ رکھے ہیں

انہوں نے کہا کہ  آن لائن ڈیٹابیس نے دوسرے اضلاع کے مریضوں کو الائیڈ اسپتال فیصل آباد جانے کی رپورٹ دی ہے،ایڈز کنٹرول پروگرام سے رابطہ کیے اور  سمجھے بغیر خبر دی گئی، سسٹم کو سمجھنے سے پتہ چلتا ہےکہ کیسز پرانے ہیں ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

میڈیا میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض نے سندھ کےبعد پنجاب کے پانچ اضلاع میں بھی اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں مگراس طرف حکام کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہےجسکی وجہ سے عوامی وسماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہےکہ چنیوٹ، ساہیوال، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، جھنگ اور ننکانہ صاحب میں اب تک تقریبا تین ہزارسے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اہل علاقہ اور سماجی شخصیاتنے حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق پنجاب کے پانچ اضلاع میں ماہانہ ستر سے نوے لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہورہی ہے، مگر اس کے باوجود کسی بھی ضلع میں اسکریننگ ٹیسٹ کیلئے کوئی کیمپ موجود نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز