کراچی میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول آسان یا دشوار؟

ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی  میں رجسٹرڈ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے مگر اس کے مقابلے میں ڈرائیونگ لائسنس لینے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی میں ڈرائیونگ لا ئسنس کا حصو ل آسان ہے یا دشواراس بات کا اندازاہ یہاں سے لگایا جاسکتاہے کہ  شہریوں کو لائسنس کے حصول کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔

کراچی میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کا تصور کرتے ہی لمبی قطاریں، رشوت ادائیگی اور کئی گھنٹے کی دشواری کا خوف ذہن پر چھاجاتا ہے۔مگر موجودہ صورتحال ماضی سے قدرے مختلف ہوگئی ہے۔

ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے کئی دہائیوں سے شہر میں تین مقامات ناظم آباد، کلفٹن اور کورنگی میں ڈرائیونگ لائسنس مراکز قائم ہیں جہاں یومیہ صبح سے شام تک ہزاروں شہری ڈرائیونگ لائسنس بنوانے آتے ہیں۔

امیدوار کو سب سے پہلے اصل شناختی کارڈ کے ذریعے ٹوکن حاصل کرنا ہوتا ہے،ٹوکن کے حصول کے بعد مکمل کوائف کمپیوٹر آپریٹر کے پاس درج کرانا ہوتے ہیں جس کے بعد فیس کی ادائیگی اور امیدوار کی آنکھوں کا معائنہ کرایا جاتا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ تصویر کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدوار کو ٹریفک سائن اور قوانین پر مشتمل آسان سوالات کے جوابات بذریعہ کمپیوٹر’ہاں‘ یا ’ناں‘ کی صورت میں دیناہوتے ہیں جس کے بعد ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور درست انداز میں گاڑی چلانے پر امیدوار کو کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ بھر کی ڈرائیونگ لائسنس مراکز کا ڈیٹا آن لائن ہونے اور تما م مراحل کے کمپیوٹرائزڈ ہونے کے باعث جونہی امیدوار فیس کی ادائیگی کرتا ہے اسے موبائل فون پر تصدیقی پیغام بذریعہ ایس ایم ایس موصول ہوجاتاہے۔

شفاف کمپیوٹرائزڈ لائسنس کے حصول کی خواہشمند خواتین اوربزرگ شہریوں کے لئے تمام مراکز میں علیحدہ ڈیسک بھی قائم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑیوں کی رجسٹریشن پرپابندی

کراچی ٹریفک پولیس حکام کہتے ہیں کہ شہریوں کی پریشانی کےپیش نظر کراچی میں مزید تین مراکز کا افتتاح جلد ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز