’پنشن کی مد میں رکھی گئی رقم  حکومت کے جاری اخراجات سے زیادہ ہے‘


سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم کی ناکامی کے باعث پنشن کی مد میں رکھی گئی رقم  حکومت کے جاری اخراجات سے زیادہ ہوگئی ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روپے کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے سود کی رقم میں اضافہ ہوگیاہے۔

حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر انہوں نے اپنے دس ماہ میں  پاکستان کو  یہ کچھ دیا ہےتو یہ  5 سال گزارگئے  تو ملک کا کیا حشر ہوگا؟

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  کون سا ملک ہے جو دفاع پر اخراجات کم کرکے خوش ہوتا ہے؟ آپ قبول کریں ملک کے مسائل ہیں اور ان کے حل تلاش کریں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انکی ایمنسٹی اسکیم ناکام ہوگئی ہے ، ہماری ایمنسٹی اسکیم سے 124 ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔

اپنی تقریر کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ انہیں  امید ہے کہ ہاؤس اچھی طرح چلے گا، یہی  فورم ہے اسی فورم پر عوام کے مسائل نے حل ہونا ہے۔ پچھلے دس ماہ میں وہ جذبہ آپ کی کرسی کی طرف سے سامنے نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا۔ چار افراد اس اسمبلی کے گرفتار ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ اس ہاؤس کے گرفتار ممبران کے پروڈکشن آڈر جاری ہونے چاہئیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ پر بحث کی گنجائش نہیں ہے،بجٹ آئی ایم ایف کا بنا ہوا ہے،جو حکومت 4 ہزار ارب اکھٹا نہ کرسکے وہ کیسے 5550 ارب کے ٹیکس جمع کریگی ؟

شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ ملک کی شرح نمو 6 سے ڈھائی فیصد پر چلی گئی ہے  اس کا جواب کسی نے دیا ہے؟ 10 ماہ میں ترقی کی رفتار آدھی ہوگئی اس کا جواب دینے والا کوئی ہے؟

یہ بھی پڑھیے:’ آئین کی حد پار کیجائے گی تو وفاق کو خطرہ ہو گا’

انہوں نے کہا کہ 1500 ارب اکھٹا کرنے کے لیےآپ کو ہر شئے مہنگی کرنا پڑے گی ۔نیا ٹیکس لگانے کے باوجود خسارہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ہم نے 1500 ارب سود دیا اس سال 2900 ارب روپے سود کی مد میں رکھے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب کی وجہ سے حکومت کا کوئی افسر کام کرنے کو تیار نہیں،اگر آپ نے ٹرک کے پیچھے لگانا ہے تو ٹرک تو نیا لے لیں۔ اپنی حکومت کے قرضوں کی بھی انکوائری کرائیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کمیشن میں اسمبلی کے فیصلوں کو دیکھا جائیگا،ضرورت ہے کام کرنے کی ۔یہاں اگر بولنے کا موقع نہیں دیا جائیگا تو بات سڑکوں پر ہوگی۔

مسلم لیگ ن کے سینئیر نائب صدر نے ایوان میں کھڑے ہوکر تنبیہہ کی کہ جو انہیں ایک گالی دیگا وہ دس دینگےاور جو ایک قدم بڑھائےگا وہ دس قدم بڑھائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کس طرح فری اینڈ فیئر الیکشن کرائے جائیں؟

پاکستان تحریک انصاف کے فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ  اچھی بات ہے تجاویز بھی آرہی ہیں اور اعتراف جرم بھی کیا جارہا ہے۔جب وزیراعظم شوکت خانم بنارہے تھے کچھ لوگ مے فیئر کے فلیٹس بنارہے تھے۔

فرخ حبیب نے مسلم لیگ ن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نام لیے بغیر کہا کہ  ان کے سنہری دور کے اندر 5 5 کیمپس آفس چلائے جاتے تھے،سرکاری خرچ ہر اپنا علاج بیرون ملک سے کرائے جاتے تھے۔ان کے سنہری دور میں 22 کروڑ عوام کی قسمت کیوں نہیں جاگی؟

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ جن کو جاری کھاتوں کا خسارہ ڈھائی ارب ڈالر ملا تھا وہ9 ارب ڈالر پر چھوڑ کر گئے،

افرخ حبیب نے سوال اٹھایا کہ سابقہ وزیراعظم نے کتنا ٹیکس دیا تھا، تو بتائیں؟

انہوں نے کہا کہ جس بجٹ کی آپ مخالفت کر رہے ہیں،آپ چاہتے ہیں جن غریبوں کا ریاست سہارا بننے جارہی ہے وہ چھن جائے؟احساس پروگرام ،کامیاب جوان پروگرام بند ہوجائے؟اس پروگرام کو کوئی نہیں بند کرسکتا۔چالیس سال آپ نے حکومت کی کیا کام آپ نے تعلیم کے لیے کیا؟

سردار ایاز صادق نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا 90 دن میں بدعنوانی ختم ہوگی ۔ بد عنوانی ختم نہیں ہوئی،وزیراعظم نے کہا قرض نہیں مانگو گا قرض مانگاگیا۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کیخلاف جدو جہد کروں گا۔پھر اپنی جماعت میں کرپٹ لوگوں کو جگہ کیوں دی؟ایم کیو ایم۔کو قاتل کہا ان سے ہاتھ نہ ملانے کا کہا پر ہاتھ ملا لیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں جب ہوتے ہیں تو سوچ مختلف ہوتی ہے حکومت میں جب آتے ہیں تو حقیقت سامنے آجاتی ہے،پچاس لاکھ گھروں کے لیے بھی ابھی تک کوئی فنڈ نہیں رکھا گیا۔وہ بات نہ کریں جو آپ نہ کرسکیں۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس  کا خرچہ کیسے کم ہوگا؟ جب سیکرٹریٹ بھی چلے گا ،گھر بھی اور بنی گالہ بھی چلے گا؟خان صاحب نے کہا تھا کابینہ میں 20 افراد ہوں گے اس وقت معاون خصوصی 17 ہیں۔

سابق اسپیکر نے کہا تحریک انصاف کے اراکین میں کیا کمی ہے جو معاون خصوصی لگائے جارہے ہیں؟خان صاحب نے کہا تھا عوام کی طاقت سے آئیں گے ورنہ نہیں آئیں گے اس بات ہر ہنسی آتی ہے۔

ایاز صادق نے خالد مگسی کی طرف اشارہ کیا کہ وہ ایماندار ہیں انہیں وزیر کیوں نہیں بناتے؟ اس پرخالد مگسی نے کان کو ہاتھ لگالیے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز