جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریلیا کی فضائی کمپنیوں نے راستہ بدل لیا

جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریلیا کی فضائی کمپنیوں نے راستہ بدل لیا

اسلام آباد: مغربی ممالک کی کئی فضائی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ پرواز کے لیے بین الاقوامی آبی تجاری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کا راستہ اختیار نہ کریں۔ یہ پابندیاں مختلف ممالک نے اپنی فضائی کمپنیوں پر عائد کی ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسی اور ادارے کے مطابق جرمنی، آسٹریلیا اور ہالینڈ نے اپنی فضائی کمپنیوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پرواز کے لیے آبنائے ہرمز کے اوپر سے نہ گزریں۔ امریکہ کی فضائی کمپنی کو اس سے قبل یہی راستہ استعمال کرنے سے روکا گیا تھا۔

ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیوں تبدیل کیا؟ ٹرمپ نے بتادیا

جرمن فضائی کمپنی ’لفتھانزا‘ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے اس کے طیارے اڑان بھرنے کے لیے ایران کے کچھ علاقوں اور آبنائے ہرمز کی فضاؤں سے نہیں گزریں گے۔

لفتھانزا کے ترجمان کے مطابق 20 جون سے اس کے طیاروں نے جتنی بھی اڑانیں بھری ہیں وہ متبادل راستوں سے کی گئی ہیں۔

خبررساں ادارے کے مطابق ہالینڈ کی فضائی کمپنی ’ایل ایم‘ کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اڑان کے لیے ایران کے کچھ علاقوں کی فضا کو استعمال نہ کرے لیکن اس ضمن میں زیادہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

جرمنی: ایرانی فضائی کمپنی ’ماہان ایئر‘ پر پابندی کی توثیق

مغربی ممالک کی فضائی کمپنیوں کی جانب سے کیا جانے والا یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

ہوا بازی کی صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق اگر یہ سلسلہ دراز ہوتا ہے تو یقیناً فضائی کمپنیوں کے کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا جس کا خمیازہ مسافروں کو بھرنا پڑے گا۔

ایک سوال پر ماہرین نے تسلیم کیا کہ یقیناً اس سے سیاحت کی صنعت بھی متاثر ہوگی جس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

متعلقہ خبریں