لبرا قومی ریاستوں کو کمزور کر دے گی، فیس بک بانی رکن

فیس بک کے شریک بانی رکن کرس ہیوز نے تنبیہ کی ہے کہ نئی کرپٹوکرنسی لبرا قومی ریاستوں کو کمزور کر دے گی اور ان کا مالیاتی نظام مرکزی بینکوں کے بجائے نجی کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا۔

اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں لوگوں نے مقامی کرنسی کی جگہ لبرا کا استعمال شروع کر دیا تو ریاستوں کی مالیاتی پالیسی پر حکمرانی کمزور ہوجائے گی۔

ہیوز نے مطالبہ کیا کہ دنیا کی ابھرتی معیشتوں کو مقامی بینکوں کو پابند کر دینا چاہیئے کہ وہ لبرا میں اس وقت تک خرید و فروخت نہ کریں جب تک اس کے مضمرات سامنے نہیں آ جاتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ابھی تک لبرا کے حوالے سے خدشات کو نظر انداز کر رہے ہیں انہیں دیکھنا چاہیئے کہ فیس بک نے کس طرح زندگی کے دیگر شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

یوز کے مطابق فیس بک نے نوجوانوں کو آن لائن ہراساں کرنے، دہشت گردوں کو اپنی سرگرمیاں براہ راست دکھانے اور قتل عام کرنے والے اشخاص کو اسے براہ راست نشر کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیس بک نے موبائل پیغامات، خبروں اور صحافت کو تیزی سے بدل کر رکھ دیا ہے۔

جب سے فیس بک نے اپنی کرنسی کا اعلان کیا ہے مختلف ممالک سے اس پر ردعمل آ رہا ہے، روس کی ایک اہم کمیٹی کے سربراہ کا بیان سامنے آیا ہے ان کا ملک لبرا کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

فرانس کے وزیر خزانہ برونو لامائیر نے قواعد و ضوابط سخت کرنے کا کہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ لبرا ایک خودمختار کرنسی نہیں ہو گی۔

اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کے جرمن رکن کا کہنا ہے کہ اپنی نئی کرنسی کے اعلان کے بعد فیس بک ایک شیڈو بینک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی 16 جولائی کو لبرا کے حوالے سے سماعت کرے گی جس میں فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیا جائے گا۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی کا رویہ البتہ زیادہ مخاصمانہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی کے بارے میں کھلے ذہن کا مظاہرہ کرنا چاہیئے جس کے ذریعے سرحدوں کے درمیان رقم کی منتقلی آسان ہو۔

یاد رہے کہ مارک کارنی نے رواں برس فیس بک کے مالک مارک زکربرگ سے ملاقات کی تھی جس پر بہت شور مچا تھا۔

کچھ روز قبل فیس بک نے اپنی کرپٹو کرنسی کا اعلان کرتے ہوئے اس کی کچھ تفصیلات بیان کیں جن کے مطابق اس نئی کرنسی کا نام لبرا ہو گا اور آغاز میں اس کے پیچھے دنیا کی 28 بڑی کمپنیوں کا اعتماد کام کر رہا ہو گا جو بنیادی طور پر آن لائن کاروبار کرتی ہیں۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگلے برس جب یہ کرنسی میدان میں آئے گی تو 100 بڑی کمپنیاں اس کا حصہ ہوں گی۔

بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک نے یہ اعلان کر کے ایک آزاد ورچوئل ریاست  کی طرف پہلا قدم رکھ دیا ہے۔ دنیا کی 100 سب سے طاقتور کمپنیاں مل کر جس نئی کرنسی کا آغاز کر رہی ہیں، وہ بٹ کوائن یا اس جیسی کرپٹو کرنسی سے یکسر مختلف ہے۔

ڈیجیٹل شعبے کے کئی ماہرین کی رائے میں فیس بک نے لبرا کی شکل میں دنیا میں رائج مالی نظام کا متبادل پیش کر دیا ہے۔اس کے پاس دو ارب صارفین موجود ہیں جو بلاجھجھک لبرا کو بطور کرنسی تسلیم کر لیں گے۔ جب دنیا کے دو ارب لوگ کسی کرنسی پر اعتماد شروع کر دیں تو اس کی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبرا تیزی سے ڈالر اور دیگر روایتی کرنسیوں کی جگہ لینے لگے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز