امریکی پابندیاں: علی خامنہ ای کے بعد اگلی باری کس کی؟

امریکی پابندیاں: علی خامنہ ای کے بعد اگلی باری کس کی؟

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط سے ایران پر جو نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان سے سب سے زیادہ متاثر ایران کے مذہبی رہنما (سپریم لیڈر) علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے دیگر آٹھ اعلی عہدیدار ہوں گے۔ امریکہ رواں ہفتے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پر بھی پانبدیاں عائد کردے گا۔ یہ پابندیاں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس کی روشنی میں لگائی جائیں گی۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر نے پابندیوں کے ایگزیکٹیو آرڈرپر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ نئی عائد کردہ پابندیوں کا اصل ہدف ایران کے مذہبی رہنما علی خامنہ ای اور ان کا ادارہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں لیکن یہ ضرور چاہتے ہیں کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی بند کردے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعہ کا ردعمل ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی ڈرون گرانے کا واقعہ پیش نہ بھی آتا تو یہ پابندیاں پھر بھی عائد کی جاتیں۔

خلیج فارس سے فوجی انخلا امریکی مفاد میں ہے، ایرانی وزیر خارجہ

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ عائد کردہ نئی پابندیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوں گی کیونکہ ان سے علی خامنہ ای اور ان کا دفتر متاثر ہوگا۔

عالمی خبررساں ایجنسی نے امریکی سیکریٹری خزانہ کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد ایران کے کئی ارب ڈالرز کے اثاثے منجمد ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایک سوال پر واضح کیا کہ امریکی وزارت خزانہ ڈرون گرانے کے واقعہ سے قبل بھی یہی پابندیاں عائد کرنے پہ سوچ بچار کررہی تھی۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکہ کے سیکریٹری خزانہ نے واضح کیا کہ امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں اپنے کسی بھی اتحادی سے کوئی مشورہ نہیں کیا ہے۔

امریکہ کے صدر نے وائٹ ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب علی خامنہ ای اور ان کے دفتر کو مالی ذرائع تک رسائی نہیں ملے گی۔ آئندہ کے عزائم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران پر دباؤ بنائے رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آئندہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کیوں مستعفی ہوئے تھے؟؟؟

امریکی سیکریٹری خزانہ اسٹیفن مینوشن کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی ڈرون مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کی ایک دانستہ کارروائی اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس

مؤقر ویب سائٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کےمطابق امریکی سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پرپابندیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرعائد کی جائیں گی لیکن انہوں‌ نے انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

امریکہ کے سیکریٹری خزانہ اسٹیفن منوشن کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرخارجہ پر عائد کی جانے والی بعض پابندیاں تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں اور کچھ ایران کی حالیہ سرگرمیوں پر بھی عائد کی جائیں گی۔


امریکہ، ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے بعد سے متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں سخت تناؤ موجود ہے۔ امریکہ نے اپنے جنگی بحری بیڑے اور مزید فوجی مشرق وسطیٰ بھیج دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز