مریم نواز نے پارٹی عہدے کیخلاف کیس میں اپنا جواب جمع کرادیا

میاں نوازشریف جلد گھر ہوں گے،مریم نواز کا ٹویٹ

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنےپارٹی عہدہ رکھنے سے متعلق کیس میں اپنا تحریری جواب جمع کرادیاہے۔

مریم نوازکے وکلاء نے تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیاہے جس میں کہا گیاہے کہ آئین اور الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے،ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ سزایافتہ شخص پارٹی کا عہدیدار نہیں ہوسکتا۔

مریم نواز کے جواب میں کہا گیاہے کہ آمریت کے ادوار میں عوامی نمائندوں کومنتخب کرنے سے روکنے کیلئے اس طرح کے قوانین بنائے جاتے تھے، سیاسی جماعتوں کے آرڈر 2002 میں شق رکھی گئی تھی کہ سزایافتہ شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

مریم نواز نے موقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ نےسیاسی جماعتوں کے آرڈر2002میں شامل مذکورہ شق کو الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم کردیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نواز شریف سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ یہاں لاگو نہیں ہوتا،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا الیکشن کمیشن پر اطلاق نہیں ہوتا۔

تحریری جواب میں یہ بھی کہا گیاہے کہ ملائکہ بخاری اور دیگر درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں  ہیں،اس لیےدرخواست ناقابل سماعت ہے،الیکشن کمیشن درخواست کو خارج کرے۔

مریم نواز کو پارٹی عہدہ دیے جانے کےمسلم لیگ نواز کے فیصلے کیخلاف باضابطہ درخواست 7مئی کو دائر کی گئی تھی ۔ درخواست تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے اراکین قومی اسمبلی بیرسٹر ملائکہ بخاری، میاں فرخ حبیب، جویریہ ظفر آہیر اور کنول شوذب کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں مریم نواز کی بطور نائب صدر تقرری کے ن لیگی فیصلے کو آئین و قانون سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔ درخواست میں ان تمام قانونی بنیادوں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی رو سے مریم نواز کسی بھی سیاسی و عوامی عہدے کیلئے نااہل ہیں۔

پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا بھی مفصل ذکر موجود ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ احتساب عدالت نے مریم نواز کو عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا۔ پارٹی عہدہ نجی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا،سیاسی جماعتوں کا پورے سیاسی نظام پر اثررسوخ ہوتا ہے۔

درخواست میں کہا گیاہے کہ پارٹی صدر کی عدم دستیابی پر مریم نواز قائمقام صدر کے اختیارات استعمال کرینگی۔ کیسے ممکن ہے اراکین اسمبلی آرٹیکل 62 ، 63 پر پورا اتریں اور انہیں کنٹرول کرنے والے نہیں؟

پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیاہے کہ سپریم کورٹ نوازشریف کو بھی پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دے چکی ہے۔ مریم نواز کو عہدہ رکھنے کی اجازت دینا نوازشریف کو اجازت دینے کے مترادف ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کالعدم قرار دے۔

یہ بھی پڑھیے:پارٹی عہدے کے خلاف درخواست پر مریم نواز کو نوٹس جاری

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔

مسلم لیگ ن اور مریم نواز کے وکلا پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے وکیل حسن مان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا۔ الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز