بابر کی سنچری، پاکستان کی نیوزی لینڈ کیخلاف یادگار فتح

عالمی کپ 2019 کے 33 ویں میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔

قومی ٹیم نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دیا گیا 238 رنز کا ہدف 49 ویں اوور میں بابر اعظم کی شاندار سنچری کی بدولت عبور کر لیا۔


پاکستان کی اننگز!

1-20 اوورز: بولٹ کی شاندار گیند بازی

نیوزی لینڈ کی جانب سے دیئے گئے 238 رنز ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا، سلامی بلے باز فخر زمان بولٹ کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔

پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد بابر اعظم نے امام الحق کے ساتھ مل کر 25 رنز کی شراکت داری قائم کی تاہم اننگز کی گیارہویں اوور میں فرگیوسن کی گیند پر امام بھی کیچ دے بیٹھے۔


21-50: بابر، سہیل کی بہترین بلے بازی

ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد قومی ٹیم کو محمد حفیظ کے تجربے کی ضرورت تھی اور اس موقع پر ان کا ساتھ دینے کے لئے پاکستان کے انتہائی قابل بھروسہ بلے باز بابر اعظم کریز پر آئے۔

تاہم محمد حفیظ نے میچ کے انتہائی اہم موڑ پر غیر زمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے اپنی وکٹ گنوا دی۔

حفیظ کی وکٹ گرنے کے بعد بابر اعظم کا ساتھ دینے جنوبی افریقہ کے خلاف مین آف دی میچ قرار دیئے جانے والے حارث سہیل کریز پر آئے۔

ابتدا میں حارث کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان کے قدم جلد ہی کریز پر جم گئے اور انہوں نے پاکستان پر آئے دباؤ کو کافی حد تک کم کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان بلے بازی میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھنے والے بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں اپنے 3 ہزار رنز بھی مکمل کئے۔

وہ پاکستان کے پہلے اور دنیائے کرکٹ کے دوسرے سب سے کم میچز میں تین ہزار رنز اسکور کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔

اس دوران حارث سہیل کا بلا بھی رنز اگلتا رہا اور انہوں نے 2 چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

بابر اعظم نے انتہائی مہارت سے قومی ٹیم کو فتح کے قریب لے جاتے ہوئے اپنی سنچری مکمل کی، بابر کی یہ سنچری پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 101 اور حارث سہیل 68 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ نیوزی لینڈ کی جانب سے بولٹ، فرگیوسن اور کین ولیمسن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔


نیوزی لینڈ کی اننگز!

1-20 اوورز: پاکستانی گیند بازوں کی شاندار بولنگ

ایجبیسٹن کے میدان میں کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔

کپتان سرفراز احمد نے بائیں ہاتھ کے سلامی بلے باز کولن منرو کو دیکھتے ہوئے گیند محمد حفیظ کے ہاتھ تھمائی تاہم اننگز کی پہلی گیند گپٹل نے کھیلتے ہوئے انہیں چوکا رسید کر دیا۔

دوسرے اوور کا شاندار آغاز محمد عامر نے گپٹل کی اہم وکٹ کے ساتھ کیا، گپٹل کو بولڈ کرنے کے ساتھ میدان عامر عامر کے نام سے گونج اٹھا۔

پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد کولن منرو نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے عامر کو اوور میں دو چوکے رسید کر دیئے جس میں کیویز پر دباؤ میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

محمد حفیظ کو شروعاتی اوورز دینے کا تجربہ کامیاب نہیں رہا، سرفراز نے گیند شاہین شاہ کو تھما دی جنہوں نے ابتدائی تین گیندیں اچھی کرائی تاہم چوتھی گیند پر ولیمسن نے انہیں چوکا رسید کر دیا۔

جہاں ایک طرف عامر اپنی نپ تلی گیند بازی سے کیویز کا رن روکے ہوئے تھے وہی شاہین شاہ نے اس دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منرو کو پویلین کی راہ دکھا دی۔

عامر اور شاہین شاہ کی جوڑی نے پاکستان کو بہت اچھا آغاز فراہم کر دیا۔

میچ کے نویں اوور میں شاہین شاہ آفریدی کی باہر جاتی ہوئی گیند کو راس ٹیلر نہ سمجھ سکے، گیند بلے بلے کا باہری کنارہ چھوتے ہوئے وکٹ کیپر سرفراز کے گلوز میں جاپہنچی جنہوں نے چھلانگ لگاکر شاندار کیچ وصول کیا۔


21-50 اوورز:جیمی نیشم، ڈی گرینڈ ہوم کا لاٹھی چارج

چار وکٹیں جلد گرنے کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے جیمی نیشم کے ساتھ 37 رنز کی شراکت داری قائم کی جو زیادہ طویل ثابت نہ ہو سکی۔

لیگ اسپنر شاداب خان نے ولیمسن کی اہم وکٹ حاصل کر لی، اس موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کم ٹوٹل پر آؤٹ ہو جائے گی تاہم جیمی نیشم اور ڈی گرینڈ ہوم کے درمیان ریکارڈ شراکت داری نے کیویز کو اچھے ٹوٹل کی جانب گامزن کر دیا۔

سرفراز کی جانب سے بار بار گیند بازی میں تبدیلی بھی کسی کام نہ آ سکی اور دونوں کیوی آل راؤنڈرز کے بلے رنز اگلتے رہے, اننگز کے اختتام پر جیمی نیشم 97 اور گرینڈ ہوم 64 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے تین جبکہ عامر اور شاداب خان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔


ٹاس و ٹیم سلیکشن!

دونوں ٹیموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، سرفراز الیون نے کیویز کے خلاف جنوبی افریقہ کے میچ میں کھیلنے والی ٹیم ہی میدان میں اتاری ہے جبکہ ولیمسن الیون بھی اسی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتری ہے جس نے ویسٹ انڈیز کا سامنا کیا تھا۔

ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ وہ بھی ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنا چاہتے تھے۔ پاکستانی کپتان نے کہا کہ محمد عامر اور وہاب ریاض کو فارم میں دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز