صدی کی بدترین’سودی بازی‘ یا صدیوں بعد پیدا ہونے والا ’موقع‘؟

صدی کی بدترین’سودی بازی‘ یا صدیوں بعد پیدا ہونے والا ’موقع‘؟

بحرین: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ حلقے بحرین ورکشاپ کو ’صدی کی بدترین سودی بازی‘ قرار دے رہے ہیں لیکن اصل میں یہ سودے بازی نہیں ہے بلکہ صدیوں بعد پیدا ہونے والا ایسا نادرو تاریخی ’موقع‘ ہے کہ جس سے پورے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے باصلاحیت اور اہل قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

بحرین ورکشاپ میں شرکت کے موقع پر ’العربیہ نیوز چینل‘ کا خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جیرڈ کشنر نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن منصوبے سے مغربی کنارے اور غزہ کی اقتصادی صورتحال میں بہت بہتری آئے گی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق سیاسی منصوبہ مناسب ’وقت‘ پر سامنے لائیں گے۔

ٹرمپ کے داماد کشنر نے ’نیا اسرائیلی نقشہ‘ پیش کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر خاص نے کہا کہ ہمیں یہاں جو تجاویز ملی ہیں وہ بہت اچھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی ان کی آرا کا احترام کرتے ہیں۔

خصوصی انٹرویو میں جیرڈ کشنر نے کہا کہ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنے وعدے پورے کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے پیش کردہ ’منصوبے‘ میں غزہ اور غربی اردن کو ملانے کی صلاحیت نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی زندگیوں میں بہتری لانا ہماری ذمہ داری ہے۔

بحرین کے دارلحکومت مناما میں دو روزہ مشرق وسطیٰ اقتصادی کانفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں متعدد اہم ممالک کی معروف شخصیات شریک ہیں۔ کانفرنس کی میزبانی بحرین اور امریکہ مشترکہ طور پر کررہےہیں۔

مشرق وسطیٰ امن منصوبہ یا ڈیل آف دی سینچری؟

ترکی کی خبررساں ایجنسی ’انا طولیہ‘ کے مطابق فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ بحرین کانفرنس کے جواب میں بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرانے کی کوشش کریں گے۔

امریکی تجویز میں فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں ہے، روس

الجزائر میں فلسطین کے سفیر امین مقبول نے سفارت خانے کے سامنے بحرین کانفرنس کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران صدر کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بین الاقوامی اجلاس کا مقصد علاقے میں قیام امن کے موضوع پر امریکہ کی اجارہ داری کو ختم کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے ساتھ تعاون کے حصول کے لیے سفارتی دورے کیے جائیں گے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق فلسطین کے صدر نے واضح کیا کہ ہم آج سے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے امریکہ کی  ثالثی کو نہیں مانتے ہیں۔

فلسطین کے صدرمحمود عباس نے کہا کہ کہ  ہم عالمی ممالک کی شرکت سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کو قبول کریں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز