’اے پی سی سے فضل الرحمان کی حکومت مخالف توقعات پوری نہیں ہوئیں‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس سے اپنی توقعات کے مطابق رضامندی اور نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پروگرام ویوز میکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا اسمبلیوں سے استعفوں کا مطالبہ پہلے بھی تھا اب بھی انہوں نے دہرایا ہے لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتیں ان سے اس نقطے پر متفق نہیں ہیں۔

تجزیہ کار مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے کل جماعتی کانفرنس سے متعلق جو بیانیہ بنایا تھا اب تک اس میں ناکامی ہوئی ہے۔ مستقبل قریب میں بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

سئینر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے کہ اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی دونوں جماعتوں کو سڑکوں پر لانے کی کوشش تھی لیکن اس میں وہ رضامندی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اندر اعتماد کا فقدان ہے، مولانا فضل الرحمان کی خواہش ہے کہ الیکشن دوبارہ ہوں تاکہ وہ کسی طرح اسمبلی پہنچ جائیں۔ اگر یہ مہنگائی، قرضوں کے خلاف نکلتے تو عوام بھی ان کے ساتھ ہوتی۔

تجزیہ کار اطہر کاظمی کا موقف تھا کہ مولانا فضل الرحمان اس پارلیمنٹ میں نہیں ہیں اس لیے انہیں یہ اچھی نہیں لگتی ہے۔ اپوزیشن اراکین کی اسمبلی کی وجہ سے موجیں لگی ہوئی ہیں اگر وہ یہاں سے نکل جائیں تو جیلوں میں ہی سارا وقت گزارانا پڑے گا۔

کیا اپوزیشن نے بجٹ اجلاس میں قابل عمل تجاویز دی ہیں کے جواب میں افتخار احمد نے کہ اکہ اپوزیشن نے نہ تجاویز دی ہیں اور نہ ہی حکومت نے ماننی تھیں۔ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے اب تک کچھ طے نہیں کر پائی ہے۔ ملکی معاشی بحران سے نکلنے کے لیے دونوں کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔

عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ ملک کو جتنے مسائل کا سامنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ سب اتفاق رائے سے کام کریں، یہ وقت اپنے اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کا ہے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے تنقید تو کی ہے لیکن کوئی تجاویز نہیں دی ہیں۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بجٹ کی تیاری کے دوران مشاورت یا تجاویز کی روایت نہیں ہے۔ حکومت کا رویہ اور کام عوام دیکھ رہے ہیں، ایسے میں اپوزیشن کو شیڈو بجٹ پیش کرنا چاہیے تھا۔

امجد شعیب نے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ اراکین نے بجٹ اجلاس کے دوران اہم نکات اٹھائے ہیں کہ حکومت کے وعدوں میں کہاں تضاد ہے جیسے چھوٹی کابینہ کا وعدہ کیا تھا لیکن بڑی کابینہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

اطہر کاظمی کی رائے تھی کہ اپوزیشن نے پہلے ایسی تجاویز کب دی ہیں جس سے عوام کا فائدہ ہو، یہ اپوزیشن عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے سوچ رہی ہے، حکومت کی بھی آمدنی کم اور خرچا زیادہ ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کے عوام کے احتجاج کے لیے باہر نکلنے سے متعلق سوال پر عامر ضیاء نے اپنے تجزیے میں کہا کہ حکومتی پالیسیوں سے لوگ تنگ ضرور ہیں لیکن ابھی حالات ایسے نہیں کہ لوگ تحریک کی شکل اختیار کرکے سڑکوں پر نکل آئیں۔

افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام میں بے چینی ضرور بڑھ رہی ہے لیکن ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا کہ لوگ نکل پڑیں، اگر لوگ نکل پڑے تو حکومت سمیت سب کو بہت مشکل ہوگی۔

مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان میں عوام تب نکلتی ہے جب پانی سیر سے اونچا ہوجاتا ہے، ابھی لوگ حکومتی پالیسیوں سے اتنے ناراض نہیں ہیں۔

امجد شعیب کا کہنا تھا کہ معیشت کی صورتحال خراب ہے، یہ ملکی مفاد کا مسئلہ ہے کہ قرضوں اور مہنگائی سے ہر کسی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ ابھی لوگوں کے باہر نکلنے کی نوبت نہیں آئی ہے۔

اطہر کاظمی نے کہا کہ ابھی تو ملک میں سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے غریبوں کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں بہت برداشت ہے انہوں نے ستر سال تک جن حکمرانوں کو برداشت کیا ہے، اس کے بعد اتنی جلدی کسی حکومت کے خلاف تحریک کے لیے نہیں نکلیں گے۔

سلامتی کونسل میں بھارت کے غیرمستقل رکن بننے کے معاملے پر پاکستان کے اعتراض نہ کرنے کے حوالے سے عامر ضیاء نے کہا کہ پاکستان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بھارت میں اقلتیوں کے ساتھ بدتر سلوک کا معاملہ اٹھانا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے یک طرفہ اقدامات سے امن نہیں آئے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز