اعصاب شکن مقابلے کے بعد پاکستان کی فتح

عالمی کپ 2019 کے36 ویں میچ میں پاکستان نے اعصاب شکن مقابلے کے بعد افغانستان کو تین وکٹوں سے شکست دے دی۔

قومی ٹیم نے 228 رنز کا ہدف 49 ویں اوور میں عماد وسیم کی عمدہ اننگز کی بدولت سات وکٹوں کے نقصان پر عبور کر لیا۔

ہیڈنگلے کے میدان میں کھیلے جانے والے اس اہم میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 227 رنز بنائے تھے۔


پاکستان کی اننگز!

1-20: محمد نبی کی بہترین گیند بازی

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز سلامی بلے باز امام الحق اور فخر زمان نے کیا مگر پہلے اوور کی چوتھی گیند پر قومی ٹیم کو بڑا دھچکہ لگا جب فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔

اس موقع پر امام کا ساتھ دینے کے لئے نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری اسکور کرنے والے بابر اعظم کریز پر آئے، دوںوں کھلاڑیوں کے مابین 72 رنز کی اہم شراکت داری قائم ہوئی۔

افغانستان کے کپتان نے گیند بازی محمد نبی کو دینے کا فیصلہ کیا جو فوراً رنگ لے آیا امام الحق بڑی شاٹ کھیلتے ہوئے اسٹمپ ہو گئے۔

انہوں نے 51 گیندوں پر 4 چوکوں کی مدد سے 36 رنز اسکور کئے، اس دوران بابر اعظم کا بلا رنز اگلتا رہا تاہم وہ بھی نبی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

بابر اعظم نے 51 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 45 رنز اسکور کئے۔


21-50: راشد خان کی بہترین گیند بازی

پاکستان کی اننگز کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری محمد حفیظ اور کپتان سرفراز احمد کے کندھوں پر آئی تاہم اس مرتبہ پھر حفیظ ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھتے ہوئے غیرذمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے پویلین لوٹ گئے۔

قومی ٹیم کو جیت کے لئے سو سے زائد رنز درکار تھے، اس موقع پر کپتان سرفراز کا ساتھ دینے کے لئے عماد وسیم کریز پر آئے۔

میچ میں مضبوط گرفت حاصل کرنے کے بعد افغانستان کے کپتان نے راشد خان اور مجیب الرحمن کو گیند بازی دی۔

دونوں گیند بازوں نے پاکستانی بلے بازوں پر شدید دباؤ جاری رکھا ، میچ کے اہم مرحلے میں سرفراز دو رنز بنانے کے چکروں میں رن آؤٹ ہو گئے۔

قومی ٹیم کے کپتان کی وکٹ گرنے کے بعد پاکستان پر شکست کے بادل منڈلانے لگے، اس موقع پر شاداب خان اور عماد وسیم آہستہ آہستہ رنز بناتے گئے۔

کھیل کے ایک مرحلے میں عماد وسیم راشد خان کی گیند کو سمجھنے سے قاصر تھے تاہم ان کی قسمت نے خوب ساتھ دیا۔

افغانستان کے کپتان نے مجیب الرحمن کی جگہ خود گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے اس اوور میں دونوں بلے بازوں نے 18 قیمتی رنز سمیٹے۔

پاکستان کو جیت کے لئے 18 گیندوں پر 18 رنز درکار تھے تاہم اس مرحلے پر شاداب خان رن آؤٹ ہو گئے جس کے بعد قومی ٹیم پر پھر دباؤ آ گیا۔

شاداب کی وکٹ گرنے کے بعد وہاب کریز پر آئے اور انہوں نے آتے ساتھ ہی راشد خان کو چھکا داغ دیا جس سے ایک مرتبہ پھر تمام دباؤ افغانستان کی طرف چلا گیا۔

قومی ٹیم کو آخری اوور میں چھ گیندوں پر چھ رنز درکار تھے، اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو رنز بنے جبکہ تیسری گیند پر دونوں کھلاڑیوں نے دو رنز لئے جبکہ چوتھی گیند پر عماد نے چوکا مار کر پاکستان کو فتح دلا دی۔

پاکستان کی جانب سے عماد وسیم نے 49 اور بابر اعظم نے 45 رنز بنائے، افغانستان کی جانب سے نبی اور مجیب الرحمن نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔


افغانستان کی اننگز!

1-20: شاہین شاہ کی عمدہ گیند بازی

افغانستان کی جانب سے اننگز کا آغاز کرنے سلامی بلے باز رحمت شاہ اور کپتان گلبدین نائب کریز پر آئے اور انہوں نے آتے ساتھ ہی جارحانہ انداز اپنایا۔

گلبدین نائب نے شاہین شاہ کو ایک اوور میں تین چوکے لگائے تاہم ان کی اننگز زیادہ طویل ثابت نہ ہو سکی اور وہ وکٹ کیپر کو کیچ تھما بیٹھے۔

اگلی ہی گیند پر شاہین شاہ نے حشمت اللہ شاہیدی کو بھی آؤٹ کر دیا، لگاتار دو وکٹیں حاصل کرنے کے بعد انہیں ہیٹرک چانس مل گیا تاہم وہ یہ اعزاز حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

وکٹ کے دوسرے اینڈ سے محمد عامر نے اپنی نپی تلی گیند بازی سے افغانستان پر دباؤ جاری رکھا ، اس دوران افغان بلے باز اکرام علی خیل ان کی ان سوئنگ گیند کو کھیلنے میں ناکام ہوئے جس پر اپیل کی گئی اور ایمپائر کی انگلی اٹھ  گئی تاہم فیصلہ رویو کرنے پر انہیں ناٹ آؤٹ قرار دے دیا گیا۔

بائیں ہاتھ کے بلے باز کو دیکھتے ہوئے کپتان سرفراز احمد نے محمد حفیظ کو گیند بازی دینے کا فیصلہ کیا، وکٹ کے دوسرے اینڈ سے عماد وسیم کے ہاتھوں افغانستان کی تیسری وکٹ گر گئی۔

تین وکٹیں جلد گرنے کے بعد اصغر افغان بلےبازی کے لئے میدان میں آئے اور انہوں نے آتے ساتھ ہی میدان کے چاروں اطراف تین چوکے اور دو چھکے داغ کر ٹیم پر آیا دباؤ ختم کر دیا۔


20-50: اصغر افغان کی اچھی بلے بازی

اصغر افغان اور اکرام علی خیل نے چوتھی وکٹ کے لئے 64 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی، اس موقع پر کپتان سرفراز احمد نے شاداب خان کو گیند بازی دی اور انہوں نے اصغر افغان کو بولڈ کر دیا۔

چوتھی وکٹ گرنے کے بعد اکرام علی خیل کا ساتھ دینے کے لئے محمد نبی کریز پر آئے مگر عماد وسیم کو بڑی شاٹ کھیلتے ہوئے اکرام بھی  کیچ دے بیٹھے۔

دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد ٹیم کے رنز بڑھانے کی ذمہ داری محمد نبی کے کندھوں پر آن پڑھی تاہم وہ بھی جلد پویلین لوٹ گئے۔

افغانستان کی جانب سے اصغر افغان اور نجیب اللہ زردارن بالترتیب 42،42 رنز بنا کر نمایاں رہے، پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے چار جبکہ عماد وسیم نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔


ٹاس و ٹیم سلیکشن:

ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ’’ ہم بھی پہلے بلے بازی کرنا چاہتے تھے تاہم بدقسمتی سے ٹاس ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، ہماری گیند بازی اچھی فارم میں ہے امید ہے ہم افغانستان کو کم ٹوٹل پر آؤٹ کر دیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں گے جو ہم نے نیوزی لینڈ کے خلاف اتاری تھی، پوری ٹیم پرجوش ہے اور بغیر کسی خوف کے ہماری توجہ اس میچ پر مرکوز ہے۔

افغانستان کے کپتان گلبدین نائب نے کہا کہ پچ بیٹنگ کے لئے بہت سازگار لگ رہی ہے، امید ہے دوسری اننگز میں اسپنرز کو وکٹ سے مدد ملے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک اچھی ٹیم ہے اور حال میں ہی انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز