میں حکومت کے لیے اتنا بڑا مسئلہ بن گیا، بلاول بھٹو

میں حکومت کے لیے اتنا بڑا مسئلہ بن گیا، بلاول بھٹو

فوٹو: فائل

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں حکومت کے لیے اتنا بڑا مسئلہ بن گیا ہوں کہ اسمبلی میں میرے خلاف قرار داد منظور کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب عوام اپنے معاشی قتل کے باعث رو رہی ہو تو یہ حکمرانوں کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے ہمیں جھوٹا اور سیلیکٹڈ کیوں کہا۔

انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سیلیکٹڈ ہو تو میں آپ کو سیلیکٹڈ کہوں گا اور اگر آپ جھوٹ بولو گے تو میں آپ کو جھوٹا ہی کہوں گا کیونکہ بے نظیر بھٹو نے مجھے سچ بولنا سکھایا ہے اور میں سچ بولوں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اسپیکر کا بہت احترام کرتا ہوں تاہم یہ اسد قیصر کا مسئلہ نہیں یہ قومی اسمبلی کے کسٹوڈین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بطور چئیرمین انسانی حقوق کمیٹی اسپیکر کو خط لکھا تھا اور قومی اسمبلی سے مہر کے ساتھ رسید آئی کہ خط موصول ہو گیا ہے لیکن اگر اسپیکر قومی اسمبلی قومی ٹی وی پر آ کر کہیں کی خط نہیں ملا تو اس کو آپ کیا کہو گے۔ دوسرا خط تمام اراکین کے دستخطوں کے ساتھ بھیجا گیا اور وہ بھی وصول ہوا لیکن اسپیکر نے کہہ دیا کہ موصول نہیں ہوا۔ تیسرا خط بھیجا گیا اس کو بھی اسپیکر ماننے کو تیار نہیں تو اس کو آپ کیا کہو گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے وقت حتمی ووٹنگ ہوئی ہی نہیں اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ بجٹ کی حمایت میں کتنے ووٹ پڑے اور مخالفت میں کتنے پڑے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وائس ووٹ پر آپ اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے سکتے ہیں اور آپ اٹھ کر کیوں بھاگے ؟ آپ حکومت کے ہر حکم کو کیوں مانتے ہیں ؟

انہوں نے کہا کہ میرا سیلیکٹڈ لفظ حذف کیا جاتا ہے تو حکومتی اراکین کے چور، ڈاکو، لٹیرے اور گندی گالیاں کیوں نہیں حذف کی جاتیں ؟ حکومتی وزیر جس طرح انگلی کا اشارہ کرتے ہیں اسپیکر اسی طرح کرتے ہیں، پھر بھی میں آپ کو سیلیکٹڈ نا کہوں تو اور کیا کہوں ؟

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز