’ویر میریا جگنی۔۔۔‘ کےگائیک عالم لوہار کی 40 ویں برسی


لاہور: چمٹے کی منفرد دھنوں اور بے مثال آواز کے جادو سے مداھوں کو محسور کرنے والے صدی کے عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کو مداحوں سے بچھڑے چالیس برس بیت گئے۔

سماعتوں پر وجد طاری کردینے والے عالم لوہار نے زندگی کے ابتدائی ایام میں دنیائے موسیقی میں قدم رکھا اور اپنے دور کے تھیٹرز میں گیت گا کر شہرت کی بلندی پر پہنچ گئے۔

’ہیر وارث شاہ‘ نے عالم لوہار کو شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ انہوں نے ہیر وارث شاہ کو موسیقی کی 30 سے زائد اصناف میں گا کر ایسا ریکارڈ بنایا جو کہ آج بھی پنجاب کی مٹی میں خوشبو کی مانند رچا بسا ہے۔

عالم لوہار نے کئی منفرد نغمے تخلیق کئے جن میں ویر میریا جگنی، اے دھرتی پنج دریاں دی، واجاں ماریاں، دل والا دکھڑا، موڈا مار کے ہلا گئی، جس دن میرا ویاہ ہو وے گا، قصّہ سوہنی ماہیوال اور دیگر بے شمار گانے شامل ہیں۔

انہوں نے چمٹے کو بطور میوزک انسٹرومنٹ استعمال کیا اور دنیا کو ایک نئے ساز سے متعارف کرایا۔ پنجاب کے اس لوک گلوکار کو چمٹا بجانے میں کمال کا فن حاصل تھا۔

عالم لوہار کو فنی خدمات کے صلے میں تمغہ حسن کارکردگی سمیت متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔

ان کا انتقال 3 جولائی 1979 کو ایک ٹریفک حادثے میں ہوا لیکن عالم لوہار کے گائے ہوئے پنجابی گیت آج بھی اہل ذوق کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

پنجاب کی شان اس گلوکار کے بیٹے عارف لوہار آج بھی اپنے والد کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز