سانحہ ماڈل ٹاؤن : جے آئی ٹی کے خلاف درخواستوں کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت

لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے قائم کی گئی جے آئی ٹی کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کیا ہے۔عدالت نے سپریم کورٹ میں زیرِ التوا اپیلوں پر فیصلے تک کارروائی ملتوی کر دی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف درخواستوں پر سماعت  جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

دوران سماعت جسٹس قاسم خان نےسرکاری وکیل سے کہا  بہت شور سنتے تھےاختیار سماعت کا،ہم نے ایڈووکیٹ جنرل کو بلایا تھا کیا انہوں نے آپ کو بھیجا ہے؟

سرکاری وکیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل کیساتھ میٹنگ کی وجہ سے ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں نہیں آسکے اسی لیےانہیں بھیجا گیاہے۔

جسٹس قاسم خان نے پوچھاکیا انہوں (ایڈووکیٹ جنرل) نے آپ کو تحریری طور پر پیش ہونے کا اختیار دیاہے؟

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سے انکی فون پر بات ہوئی ہےاور فون پر ہی پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ عدالتی کارروائی سے بڑھ کر کوئی اور کام نہیں ہوسکتا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کےخلاف آنے والے فیصلے پر دلائل  دینا چاہتاہوں ،بنچ کی قانونی حیثیت کو چینلج کیاہے۔

جسٹس شہزاد نے کہا سارا کیس ہم سن لیں اور پھر کوئی اور بندہ آجائے تو ہمیں کیا فائدہ؟

جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا آپ نے کس تاریخ کو چلینج کیا درخواست نمبر کیا ہے؟

جسٹس شہزاد نے کہا کہ ہم تو اس معاملے کو نہیں لٹکا رہے آپ لوگ خود اس  میں دیر کروا رہے ہیں ۔

جسٹس قاسم خان نے کہا اگر ایڈووکیٹ جنرل پیش نہیں ہونا چاہتا تو ہمیں بھی کیس سننے کا شوق نہیں ہے۔ اچھی روایات چلی گئی ہیں ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ  گورنمنٹ آف پنجاب نے سی پی ایل اے فائل کی ہے اوروہ  اس پر دلائل دینا چاہتے ہیں،ایسا نہیں کہ آپ باہر جا کر میڈیا پر بیان دیتے ہیں کہ ہمارا کیس نہیں سنا جاتا۔

جسٹس قاسم خان نے سرکاری وکیل سے کہا آپ باہر جاکر ایڈووکیٹ جنرل کو فون کرکے پھر ہدایات لیں گے۔

انہوں نےسرکاری وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ فل بنچ یہاں موجود ہے اور تحریری طور پر معافی بھی نہیں آئی۔ کہیں یہ روایات نہ بن جائے کہ اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پیش ہی نہیں ہونا چاہتے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر جو کوئی باہر جا کر غلط پریس کانفرنس کریگا تواس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے کہا سپریم کورٹ میں کیس اس بچی کا یہ  کہ انکا کیس چل نہیں رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ سی پی ایل اے کے بعد ہی دلائل دیں گے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔

عدالت نے سپریم کورٹ میں زیرِ التوا اپیلوں پر فیصلے تک کارروائی ملتوی کر دی۔

ہائیکورٹ کے تین ركنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کرکے پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کیلئے مزید مہلت دے رکھی ہے۔

انسپکٹر رضوان قادر سمیت دیگرجواب گزاروں  نے نئی جے آئی ٹی کے قیام کو چیلنج کررکھا ہے۔

درخواستگزاروں کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک جے آئی ٹی کے بعد اسی معاملے پر دوسری جے آئی ٹی نہیں بن سکتی۔ عدالت پنجاب حکومت کا نئی جے آئی بنانے کا اقدام کالعدم قرار دے ۔

یہ بھی پڑھیے: پانچ سال بیت گئے ،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف نہ ملا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز