’وہ وقت دور نہیں جب عمران خان سے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائے گا’


لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب عمران خان سے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائے گا۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آؤ اور کارکنوں کو نواز شریف سے ملنے دو۔

شہباز شریف نے وزیراعظم  کا نام لے کر کہا ’’عمران خان اتنا بوجھ اٹھاؤ جس کا کل حساب دے سکو، وہ وقت دور نہیں جب تم سے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائے گا۔‘‘

صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پروانوں کو ملاقات کا موقع نہیں دیا جارہا، صرف خاندان کے 5 لوگوں کو ملنے کی اجازت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف نے ملک و قوم کی خدمت کی، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور سی پیک دیا، نواز شریف سے ملاقات نہ کرانا عمران خان کی فاشسٹ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رانا ثناءاللہ اور سلمان رفیق کو تمام سہولیات سے محروم کیا جارہا ہے، عوام اور کارکن حوصلہ رکھیں اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج تیسرا ہفتہ ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ آج 40 سے زائد اراکین اسمبلی اور سینیٹرز ملنے آئے ہیں،فسطائی ہتھکنڈوں سے آزمایا جا رہا ہے۔ جیلیں ہماری دیکھی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی سیاست کا محور نواز شریف ہیں،نواز شریف نے ملک کی خدمت کی اور عوامی مسائل حل کئے۔ نیب اور دیگر کیسز کی حقیقت کو سب جانتے ہیں،آج سلیکٹڈ حکومت ہے، ہم ان کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرینگے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام کے حق کی جنگ لڑتے رہیں گے،رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سیاہ باب کا اضافہ ہے، ماضی میں بھینس چوری کے مقدمات کی نئی شکل ہے،رانا ثناء اللہ بہادر آدمی ہیں وہ ہر مشکل کا مقابلہ کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے وزرا کو این آر او دیں جو اربوں کھا کر بیٹھے ہیں،ہمارا ہدف عمران خان ہے جس نے عوام پر مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ ڈالا ہے، اس نے حساب دینا۔

سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نواز شریف کا رابطہ باہر کی دنیا سے ختم کرنا چاہتی ہے،حکومت کی یہ کوشش باآور ثابت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں نواز شریف اور ان کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ رانا ثناء اللہ کو استحقاق کے باوجود اشیائے ضروریات فراہم نہیں کی جا رہیں،دوام جمہوریت، آئین کو ہے ان چیزوں کو نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ خود این آر او پر بیٹھے ہیں، نئے پاکستان میں بھی روایات پرانے پاکستان والی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا ہدف ساری عوام ہے،آج بچے بچے پر ٹیکس ہے،آرمی چیف کا کہا صحیح ہے کہ مضبوط معیشت مضبوط دفاع کا سبب بنتی ہے۔

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ لگتا ہے کہ اب کسی گاڑی سے ایف 16 بھی نکل آئے گا۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر شہباز شریف اور مریم نواز کی گاڑیاں آمنے سامنے رہیں،شہباز شریف نے گاڑی سے باہر نکل کرخطاب کیا اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب بھی دیا۔

شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف بھی شہباز شریف کی گاڑی میں موجود تھے۔ شہباز شریف تمام رہنماؤں کو جیل کے باہر اتار کر نواز شریف سے ملنے جیل روانہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف سے آج بھی خاندان کے صرف پانچ افراد ملاقات کر سکیں گے

جیل حکام نے نواز شریف کے خاندان والوں کے علاوہ دیگر رہنماؤں کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ مریم اورنگزیب، خرم دستگیر، رانا مبشر اقبال سمیت دیگر اراکین پارلیمان بھی جیل کے باہر موجود رہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز