سگریٹ نوشی کے متعلق 10 اہم حقائق

سگریٹ نوشی کے متعلق 10 اہم حقائق

سگریٹ نوشی کے نقصانات کی پوری دنیا میں تشہیر ہوتی ہے اس کے باوجود لوگ اس عادت بد کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہوتے، بےشمار کتب اور مضامین لکھے گئے، طبی ماہرین کی تحقیقات شائع ہوئیں اور حکومتوں نے بھاری ٹیکس عائد کیے لیکن ’چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘ کے مصداق صدیوں سے اس کی مقبولیت برقرار ہے۔

اس علت کے بارے میں 10 دلچسپ تاریخی، سائنسی اور معاشی حقائق یہ ہیں۔

1۔ دنیا کے ایک تہائی بالغ مرد سگریٹ پیتے ہیں

دنیا میں 33 فیصد بالغ مرد اس عادت کا شکار ہیں، اگرچہ کم عمر لڑکے بھی سگریٹ پیتے ہیں لیکن ان کے بارے میں مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں، اگر انہیں بھی شامل کر لیا جائے تو سگریٹ نوشی کے عادی مردوں کی تعداد ایک تہائی سے بہت بڑھ جائےگی۔

2۔ سگریٹ نوشی کب شروع ہوئی؟

تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ امریکہ میں تمباکو نوشی کا آغاز مذہبی رسومات کے تحت ہوا اور اس کا دھواں صحت میں بہتری لانے اور بری روحوں کا بھگانے کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ ابتدا میں صرف مذہبی رہنماؤں کو سگریٹ نوشی کی اجازت تھی تاہم بعد میں یہ عوام میں پھیل گئی۔

3۔ سگریٹ کا ذائقہ کیسے بہتر کیا جاتا ہے

سگریٹ صرف تمباکو پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ اس کا ذائقہ بہتر بنانے اور اسے عادی افراد کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کے لیے مختلف تجربات کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے ہزاروں قسم کے اضافی اجزا شامل کیے جاتے ہیں جن میں چینی اور کوکوا شامل ہیں۔

4۔ صدیوں پہلے اشرافیہ عام آدمی کی سگریٹ نوشی کے خلاف تھی

15ویں صدی میں ایک چینی حکمران نے حکم دیا تھا کہ سگریٹ پینے والے عام لوگوں کے ساتھ باغیوں جیسا سلوک کیا جائے گا، اسی صدی میں ماسکو کے مذہبی رہنما نے عام آدمیوں کے سگریٹ پینے کے خلاف فتویٰ صادر کیا کہ ان کے نتھنے چیر دیے جائیں اور انہیں پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں۔

5۔ سگریٹ کی پوری دنیا میں سب سے زیادہ طلب ہے

یہ دنیا میں سے سے زیادہ مقبول شے ہے، امریکی جیلوں میں اسے کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور غالباً دنیا کی زیادہ تر جیلوں میں یہی رسم موجود ہے۔

6۔ دنیا میں ہر سال 60 کھرب سگریٹس تیار کیے جاتے ہیں

تمباکو نوشی کے تمام تر خطرات اور اس کے خلاف حکومتوں کی اشتہاری مہم کے باوصف ہر سال دنیا میں 60 کھرب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔ البتہ حکومتیں اس کے خلاف بھرپور مہم نہیں چلاتیں کیونکہ اس سے اربوں کے محصولات حاصل ہوتے ہیں۔

7۔ سگریٹ میں موجود اضافی اجزا کینسر پھیلاتے ہیں

سگریٹ کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے اس میں بہت سے اضافی اجزا شامل کیے جاتے ہیں، سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے کم از کم 50 اجزا ایسے ہیں جو کینسر پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

8۔ سگریٹ نوشی ترک کرنا صحت کے لیے مفید ہے

انسان چاہے کئی دہائیوں سے سگریٹ نوشی کا شکار ہو، اسے ترک کرنا ہمیشہ صحت کے لیے مفید ہے۔ سگریٹ چھوڑنے کے صرف 20 منٹ کے اندر بلڈ پریشر نارمل ہو جاتا ہے جبکہ ایک سال بعد دل کے دورے کے امکانات پچاس فیصد کم ہو جاتے ہیں۔

9۔ سگریٹ کے اشتہار میں آنے والے دو افراد کی موت

سگریٹ کی ایک کمپنی کے اشتہار میں آنے والے دو افراد کئی دہائیوں بعد پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ اس عادت میں مبتلا افراد کے لیے ایک بڑی تنبیہ سمجھا جاتا ہے۔

10۔ نامور لوگ سگریٹ نوشی کے خلاف رہے ہیں

مشہور کھرب پتی ہنری فورڈ اور نامور سائنسدان تھامس ایڈیسن سگریٹ نوشی کے سخت خلاف تھے اور دونوں کسی بھی ایسے شخص کو ملازمت میں نہیں رکھتے تھے جو اس عادت کا شکار ہو۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز