’ویڈیو کو پریس ریلیز سے مسترد نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس نوٹس لیں‘


اسلام آباد: پیپلزپارٹی کی سینیٹر سحرکامران کا کہنا ہے ویڈیو کو پریس ریلیز سے مسترد نہیں کیا جاسکتا، یہ معاملہ نظرانداز کیے جانے والا نہیں ہے، چیف جسٹس نوٹس لے کر حقائق واضح کریں۔

پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیاء کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ اس پورے واقعہ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، احتساب کے عمل پر پہلے بھی سوالات تھے اب اور بھی وہ شدید ہوگئے ہیں۔ ویڈیو کو پریس ریلیز سے مستر د نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے انسانی حقوق ہر عوامی معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ مڈل کلاس ختم ہورہی ہے۔ بجٹ منظور کرانا حکومت کی کامیابی نہیں بلکہ تب ہوتی جب حکومت نے عوام کو بجٹ میں ریلیف دی ہوتی۔

سحر کامران نے کہا کہ پشاور میں بی آر ٹی، تحریک انصاف کے وزراء کی کرپشن کے معاملات ہیں لیکن ان کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ہے۔ اگر حکومت احتساب کرنا چاہتی ہے تو ان سے شروع کرے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا اپنا ایجنڈا ہے لیکن ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو روکا جائے ورنہ ملک کا نقصان ہوگا۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک کر ملک سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کریں۔

مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے حقائق سامنے لائے ہیں جن کی ارشد ملک نے تردید نہیں کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں دھمکی کا کلچر عمران خان نے شروع کیا تھا، وہ آج بھی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی برداشت کیا، اب بھی کرلیں گے۔ اگر مریم نواز نااہل ہیں تو جہانگیر ترین کو بھی عدالت نے نااہل کررکھا ہے۔ حکومت ہر ادارے کی ترجمانی کرکے اسے متنازع بنا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر انہی معاملات پر بات کی ہے جو ملک کے اندر چل رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کام حکومتی پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے۔ مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کا خرچا زیادہ اور آمدنی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا جو بیانیہ الیکشن سے پہلے تھا، آج بھی وہی ہے، عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہیں کہ کسی ایک اصل مسلم لیگی نے بھی جماعت نہیں چھوڑی۔
تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے عدلیہ پر الزامات لگا کر خود کش حملہ کیا ہے، انہوں نے اداروں کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔ مریم نواز خود سزا یافتہ ہیں۔ نوازشریف پر ایک نہیں بلکہ کئی کیسز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار اشرافیہ کا احتساب ہورہا ہے اس لیے یہ اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے پاس اگر کوئی ثبوت تھے تو انہیں عدالت جانا چاہیے تھا۔

کنول شوزب نے کہا کہ ہماری توجہ اصلاحات پر ہے، ان کی جانب سے حملوں کے باوجود ہم نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ روڈ ٹو مکہ اور احساس پروگرام سے عام آدمی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ لوگ اپنی بقاء کے لیے پورے نظام کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ملک میں اس وقت غربت، جہالت اور کرپشن سب سے بڑے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی قیادت ہائی جیک کرلی ہے، یہ پہلے اپنے فیصلے کرلیں۔ بلاول بھٹو جب بات کرتے ہیں تو سندھ سے شروع کیوں نہیں کرتے، جب تک بلاول بھٹو اور مریم نواز موجود ہیں ہمیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ماہرقانون راجہ عامر عباس نے کہا کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس اور جج کا جواب بہت حساس معاملہ ہیں، یہ عدالتوں میں چلنے والے کیسز کے لیے دباو ڈالنے کی کوشش ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کے حقائق اور دستاویزات کو دیکھے گی، ان الزامات سے فیصلے کے حقائق سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز