’وزیراعظم نے عدلیہ کو ویڈیو اسکینڈل کا نوٹس لینے کی تجویز دے کر اچھا فیصلہ کیا‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عدلیہ کو ویڈیو اسکینڈل کا نوٹس لینے کی تجویز دے کر اچھا فیصلہ کیا ہے۔

پروگرام ویوز میکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے یہ بات کرکے حزب اختلاف کو بہت مثبت جواب دیا ہے۔ ارشد ملک نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کرکے اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے۔

تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کو اس معاملے سے الگ کرکے بہت اچھا کام کیا ہے۔ حکومت کے پہلے ہی اپنے مسائل کم نہیں ہیں ۔

سئینر تجزیہ کار عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ الزام عدلیہ پر ہے وہی تحقیقات کرے، اس حوالے سے حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ بہت زیادہ دباؤ میں کام کرتی ہے کیونکہ ججوں اور گواہوں کے تحفظ کا مؤثر نظام نہیں ہے۔

تجزیہ کار امتیاز گل نے کہا کہ حکومت نے خود کو اس ذمہ داری سے الگ کرکے اپنے لیے آسانی پیدا کرلی ہے۔ عدلیہ کا معاملہ ہے بہتر ہے وہ خود ہی تحقیقات کرکے سوالوں کے جواب دیں۔

تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ جج کو پیشکش اور ان کے ضابطہ اخلاق کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری ہونے سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوا کے جواب میں ناصر بیگ چغتائی نے کہا کہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کہ حکومت کو ایک اور محاذ پر آنا پڑگیا ہے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ حکومت کی اہلیت کی وجہ سے اس کی مشکلات پہلے ہی کافی ہیں۔ عدلیہ کا معاملہ ہے تو اسے ہی تحقیقات کرانی چاہیئں۔

عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ حکومت کے بجائے مسلم لیگ ن کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، تحریک انصاف کی اب بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے زیادہ مقبولیت ہے۔

امتیاز گل نے کہا کہ اس ویڈیو اسکینڈل سے حکومت اور ن لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، اس کی واضح تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ معاملہ واضح ہو۔

امجد شعیب نے کہا کہ حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ معاملہ عدلیہ سے متعلق ہے، انہیں تحقیقات کراکر وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

حکومت مخالف تحریک سے متعلق سوال کے جواب میں امتیاز گل نے کہا کہ حزب اختلاف نے حکومت کے خلاف شور کا آغاز کردیا ہے، اس کا تحریک کی شکل اختیار کرنا مشکل ہے۔ مشرف زیدی نے کہا کہ سیاسی جلسوں کا کوئی مقصد نہیں ہے کہ اس سے کوئی کامیابی ملتی نظر نہیں آرہی ہے۔ ناصر بیگ چغتائی نے کہا کہ رائے عامہ کو تبدیل کرنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، سیاسی جماعتوں کے اندر سوچنے، بحث کرانے اور عمل کرنے کا معاملہ ختم ہوگیا ہے۔

امجد شعیب نے کہا کہ جلسوں سے حکومتیں تبدیل نہیں ہوتیں، دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بڑی تعداد میں لوگ باہر نہیں نکال سکتی ہیں۔

عامر ضیاء نے کہا کہ حزب اختلاف تقسیم ہے کہ ان کے اہداف مختلف ہیں۔ حکومت نے مشکل فیصلے کرلیے ہیں، آئندہ چند ماہ میں سیاسی و معاشی استحکام نظر آئے گا۔

آصف زرداری کی چند ماہ میں حکومت جانے کی پیشگوئی کے حوالے سے سوال کے جواب میں امجد شعیب نے کہا کہ ابھی حکومت کو حزب اختلاف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مشرف زیدی کا بھی کہنا تھا کہ اس حکومت کو جو قوت لائی ہے وہ ہی ہٹاسکتی ہے، عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ دل بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے لیکن اس حزب اختلاف سے یہ حکومت جاتی نظر نہیں آرہی ہے۔ امتیاز گل کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں ہے لیکن حکومت اب سنبھل رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز