قتیل شفائی کو چاہنے والوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے

لہجے کی سچائی، سادہ زبان کا استعمال اور عام آدمی کے جذبات کے خوبصورت ترجمان شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کو چاہنے والوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن انکے نغموں کی گونج آج بھی دلوں کو تازگی فراہم کرتی ہے۔

ہری پور ہزارہ میں جنم لینے والے محمد اورنگزیب نے دنیائے ادب میں قتیل شفائی کے نام سے شہرت حاصل کی ۔ زندگی کے ابتدائی ایام کسمپرسی میں گزارے لیکن ادب میں طبع آزمائی کی تو خوب جگمگائے انکے ترقی پسند اسلوب اور منفرد خیالات کی ایک دنیا دیوانی تھی۔

قتیل شفائی کا شعر ’’دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی ، جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘‘زبان زد عام ہے۔

قتیل شفائی کے لکھے فلمی گیتوں کو بے پناہ شہرت ملی۔ فلم ‘تيري ياد’ کے لئے پہلی بار شاعري کی  اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ فلم گمنام کا گانا پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے بہت پسند کیا گیا ۔ ایک عہد کی فلمیں قتیل شفائی کے نغموں کے بغیرناکام سمجھی جاتی تھیں۔

مختلف گلوکاروں نے اس عظیم شاعر کا کلام گا کر امر کیا ، اقبال بانو کے گائے گیت آج بھی قتیل شفائی کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔

قتیل شفائی کی تخلیقات کے بیس سے زائد مجموعے شائع ہوئےجن میں ابابیل ، جلترنگ، برگد اور پیراہن نمایاں ہیں۔

ہردلعزیز شاعر قفیل شفائی کو ادبي خدمات کے اعتراف ميں تمغہ حُسنِ کارکردگي سميت متعدد اعزازات سے بھی نوازا گيا ۔ اردو غزل کو ایک نئی جہت سے روشناس کرانے والے قتیل شفائی گیارہ جون دو ہزار ایک کو 82 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: شاعر ، افسانہ نگار اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی تیرہویں برسی

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز