جمہوری اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے نکلا ہوں، بلاول بھٹو


سکھر: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں جمہوری اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے نکلا ہوں کیونکہ جب تک جمہوری اور انسانی حقوق محفوظ نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی قتل ہوتا رہے گا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کٹھ پتلی حکومت بنائے جانے کا انکشاف کیا تھا جو اٹھارویں ترمیم کے خلاف کام کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ کٹھ پتلی حکومت اٹھارویں ترمیم کے خلاف برسر پیکار ہے۔

بلاول بھٹو نے ایک بار وفاقی بجٹ کو عوام دشمن کہتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جس میں ہر چیز پر ہی ٹیکس لگا دیا گیا جو مہنگائی کے سونامی کا سبب بنا۔ این ایف  سی ملنا صوبوں کا حق تھا لیکن کٹھ پتلی وزیر اعظم نے حقوق پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں عالمی معاشی بحران تھا اور مہنگائی ہو رہی تھی لیکن ہم نے تنخواہوں میں 170 فیصد تک اضافہ کیا تاکہ عوام پر مہنگائی کا اثر نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان اپنے وزیر ریلوے سے استعفیٰ مانگیں گے؟ بلاول کا استفسار

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومتی نالائقی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے جس میں صرف جھوٹ بولا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو کیس سے متعلق پیپلز پارٹی کا واضح بیان ہے کہ عدالت نوٹس لے اور اس طرح کے مقدمات کا نوٹس لینا اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر بھی نظر ثانی کی جائے گی۔

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی کو جب چیئرمین سینیٹ بنایا گیا اس وقت اتفاق رائے تھا اور اب ہٹانے کے لیے بھی اتفاق رائے موجود ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحافیوں نے ہر دور میں سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس بار بھی صحافی برادری ہمارے ساتھ مل کر سازشوں کا مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں صحافیوں کی آزادی پر حملے کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں آزادی صحافت نہیں رہی۔ اب یہاں ملک دشمن عناصر کے تو انٹرویو چلائے جا رہے ہیں لیکن سابق صدر کا انٹرویو نہیں چلانے دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز