‘ادائیگیوں کی مد میں 18 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی‘

ادائیگیوں کی مد میں 18 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی

فوٹو: فائل

کراچی: اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 5 جولائی تک بیرونی قرضوں اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں 18 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔

زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق جاری کردہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 5 جولائی تک مرکزی بینک کے ذخائر کم ہو کر 7.08 ارب ڈالر پر آ گئے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 لاکھ ڈالر اضافہ سے 7.17 ارب ڈالر ہو گئے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف سے 9 جولائی کو 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط ملی تھی جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر 8 ارب 30 کروڑ ڈالر ہو گئے جبکہ مجموعی ذخائر 14 ارب 26 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔

17 جون کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے اور پاکستان کا معاشی مسقبل روشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں آنے سے غیر ملکی اداروں کا معیشت پر اعتماد بڑھتا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ پیشرفت میں ملکی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں ملک کا معاشی مستقبل روشن ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

رضا باقر کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کی شرح متحرک ہونے کے بعد بیرونی خسارہ کم ہونا شروع ہوا ہے جس کے بعد اب ملک میں کافی حد تک معاشی استحکام آ چکا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ہمارا شرح مبادلہ کافی عرصے تک منجمد رہا جو درست پالیسی نہیں تھی اور ترسیلات زر بڑھنے سے اس میں کمی آتی ہے تاہم اب شرح مبادلہ کو مارکیٹ سے منسلک کرنے سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز