’حکومت کو چیئرمین سینیٹ کے لیے حاصل بزنجو کی حمایت کرنی چاہیے‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے بلوچستان سے ہی تعلق رکھنے والے حاصل بزنجو کے نام پر حزب اختلاف سے اتفاق کرلینا چاہیے۔

پروگرام ویوز میکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، حکومت کو اس معاملے میں کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ اعداد و شمار کا بہت فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں کوئی کمال دکھایا تو اس سے زیادہ دباؤ آئے گا۔

تجزیہ کار مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ حکومت کو حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاصل بزنجو کو امیدوار تسلیم کرلینا چاہیے کیونکہ وہ متنازع آدمی نہیں ہیں۔ اگر اس طرح سب ہی بلوچستان کے امیدوار کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو اچھا پیغام جائے گا۔

تجزیہ کار شاہد لطیف نے کہا کہ تحریک انصاف کا صادق سنجرانی کی حمایت کے مؤقف تھا کہ ان کا تعلق بلوچستان سے ہے تو اب نئے امیدوار کا تعلق بھی وہاں سے ہی ہے، حکومت کو چاہیے کہ حزب اختلاف کے امیدوار کی حمایت کردے۔

سینئر تجزیہ کار ناصر بیگ چغتائی نے کہا کہ وزیراعظم اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے کہ حزب اختلاف کی حمایت کرو بلکہ وہ مقابلہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ حاصل بزنجو صادق سنجرانی سے بہت امیدوار ہیں۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ حاصل بزنجو کے نام پر اتفاق رائے اس سیاسی ماحول میں اچھی بات ہے۔ اگر ان حالات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگے تو جمہوریت کو خطرہ ہوگا۔ اس معاملے پر تمام جماعتوں کو ملکر آگے بڑھنا چاہیے۔

بلاول بھٹو کی احتجاجی سیاست کے حوالے سے سوال کے جواب میں رضا رومی نے کہا کہ دباؤ سے ریلیف مل سکتا ہے اس لیے بلاول بھٹو کی کوشش ہے کہ جو معاشی حالات ہیں ان سے سیاسی حالات میں فائدہ اٹھایا جائے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت دیوارسے لگی ہوئی ہے۔

ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ جب چند سال بعد حکومت زیادہ دباؤ میں ہوگی تو حزب اختلاف کو ریلیف ملنے کا امکان ہے لیکن ابھی مشکل ہے۔

عامر ضیاء نے کہا کہ دباؤ اس لیے بڑھانا چاہتے ہیں کہ مقدمات ختم ہوں۔ بلاول بھٹو اس لیے امتحان میں ہیں کہ ایک طرف اچھے سیاستدان بنیں یا بیٹے کیونکہ ابھی تک انہیں صرف مقدمات میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن خاندانی جماعتیں ہیں۔ ان کی سیاسی مقاصد اور مفادات اسی طرح کے ہیں۔ وزیراعظم بھی اس سیاست کے قائل نہیں۔ حزب اختلاف کا احتجاج تب کامیاب ہوتا ہے جب یہ عوامی مسائل سے متعلق ہو۔

شاہد لطیف نے کہا کہ حزب اختلاف کا کام احتجاجی سیاست اور شور شرابا ہے۔ ان احتجاج کرنے والوں سے عوام واقف ہیں کہ جب ان کی حکومت تھی تو انہوں نے عوام سے کیا سلوک کیا۔  ان کی کوشش یہی ہے کہ دباؤ ڈال کر زیادہ سے زیادہ ریلیف لے لی جائے۔

جی ایس ٹی کے نفاذ کے فیصلے پر احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں عامر ضیاء نے اپنے تجزیے میں کہا کہ حکومت اس وقت غیر مقبول فیصلوں پر مجبور ہے، اگر فیصلے نہیں ہوں گے تو معیشت درست نہیں ہوگی۔ ٹیکس کے حوالے سے مزاحمت کے باوجود حکومت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ عمران خان کے ہاتھ میں نہیں کہ وہ ٹیکس پر سمجھوتہ کریں کیونکہ یہ بجٹ آئی ایم ایف نے دیا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ معیشت کے لیے اچھے فیصلے ہوں۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کو یہ فیصلہ واپس نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ معیشت کی ضرورت ہے لیکن معین الدین حیدر اور پرویزمشرف بھی پیچھے ہٹ گئے تھے، خدشہ ہے عمران خان بھی دباؤ پر پیچھے ہٹ جائیں گے۔

شاہدلطیف کی رائے تھی کہ عمران خان کے جذباتی نعرے اور حقائق مختلف ہیں کہ انہوں نے قرض نہ لینے کے اعلانات کے باوجود قرض لیا ہے۔ ٹیکس سے حکومت کے لیے پیسہ اکٹھا ہوجائے گا لیکن اس سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ حکومت کو سمجھوتہ کرنا پڑے گا کیونکہ جو ٹیکس کا ہدف رکھا گیا ہے وہ بہت بڑا ہے۔ حزب اختلاف کی طرف سے اس معاملے کو سیاست کے لیے استعمال کیا جائے گا جس سے مزید دباؤ بڑھے گا۔

آبادی میں خطرناک اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میں عامرضیاء نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آبادی کا بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ خطے میں ہماری شرح سب سے زیادہ ہے۔ سماج، میڈیا سمیت سب کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کو حکومت کی ترجیحات میں شامل کرائیں۔

شاہد لطیف نے کہا کہ آبادی کا بڑھنا کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی ہے، چین نے اس حوالے سے موثر کام کیا ہے ہمیں بھی اس پر واضح پالیسی بنانی چاہیے۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ آبادی بڑھنا بڑا مسئلہ ہے لیکن خطرے کی بات یہ ہے کہ ہماری اس طرف توجہ ہی نہیں ہے۔

ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے لیکن ہمیں اس مسئلے کا ادارک نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے منشور میں یہ مسئلہ شامل نہیں ہے۔ معاشرے اور حکومت کو اس معاملے پر ڈٹ کر کام کرنا چاہیے۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ آبادی کے بڑھنے سے زیادہ مسئلہ منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے کیونکہ کئی ممالک کی آبادی زیادہ ہے لیکن وہ پھر بھی ترقی کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز