فیس بک اور کریپٹو کرنسی والے بینک کھولیں،ٹرمپ

فیس بک اور کریپٹو کرنسی والے بینک کھولیں،ٹرمپ

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیس بک اور ڈیجیٹل کرنسی بنانے والی  دیگر کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیسے کا لین دین کرنا ہے تو ملکی قوانین کے مطابق بینک کھولیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ فیس بک کی مستقبل میں آنے والی کرنسی لبرا اور بٹ کوائن پر یقین نہیں رکھتے اگر ان کمپنیوں نے بینکنگ کا کاروبار کرنا ہے تو امریکی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی جیسا کہ دوسرے مالیاتی ادارے کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنی کرنسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے امریکی صدر نے پہلی بار اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی 16 جولائی کو لبرا کے حوالے سے سماعت کرے گی جس میں فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کرپٹو کرنسی ’لبرا‘ کیا ہے؟

لبرا قومی ریاستوں کو کمزور کر دے گی، فیس بک بانی رکن

2020 میں فیس بک جو کرنسی متعارف کرانے جارہی ہے اس میں کسی بھی بینک نے تاحال شراکت داری کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی مالیاتی اداروں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

ماسٹر کارڈز، پے پال، فیس بک اور اوبر ٹیکنالوجی سمیت 28 شراکت دار 2020 میں لبرا نامی کرنسی کا نظام سنبھالنے کے لیے ایک ایسوسی ایشن بنائیں گے۔

فیس بک کے شریک بانی رکن کرس ہیوز تنبیہ کر چکے ہیں کہ نئی کرپٹوکرنسی قومی ریاستوں کو کمزور کر دے گی اور ان کا مالیاتی نظام مرکزی بینکوں کے بجائے نجی کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا۔

اب تک ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک غیرمنافع بخش (نان پرافٹ) لبرا ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس کرنسی کا مقصد ایسے لوگوں تک مالی خدمات پہنچانا ہوگا جو بینکاری نظام سے باہر ہیں۔

جب سے فیس بک نے اپنی کرنسی کا اعلان کیا ہے مختلف ممالک سے اس پر ردعمل آ رہا ہے، روس کی ایک اہم کمیٹی کے سربراہ کا بیان سامنے آیا ہے ان کا ملک لبرا کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

فرانس کے وزیر خزانہ برونو لامائیر نے قواعد و ضوابط سخت کرنے کا کہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ لبرا ایک خودمختار کرنسی نہیں ہو گی۔

اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کے جرمن رکن کا کہنا ہے کہ اپنی نئی کرنسی کے اعلان کے بعد فیس بک ایک شیڈو بینک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی کا رویہ البتہ زیادہ مخاصمانہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی کے بارے میں کھلے ذہن کا مظاہرہ کرنا چاہیئے جس کے ذریعے سرحدوں کے درمیان رقم کی منتقلی آسان ہو۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز