آٹے، نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئیں: اسپیکر مشتاق غنی کی یاد آگئی

آٹے، نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئیں: اسپیکر مشتاق غنی کی یاد آگئی

اسلام آباد/ پشاور/ کراچی/ لاہور/ فیصل آباد: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر مشتاق غنی نے جب چند ماہ قبل اہل وطن کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ملک کے معاشی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک روٹی پراکتفا کرلیں تو کراچی سے خیبر تک ’ہا ہا کار‘ مچ گئی تھی اور بطور خاص حزب اختلاف نے وہ شور اٹھایا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب گزشتہ چند روز سے اہلیان پاکستان کو بڑی شدت سے ملنے والا ’مفت‘ مشورہ یاد آنے لگا ہے اور انہیں احساس ہوا ہے کہ کے پی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر نے کس قدر پتے کی بات وقت سے پہلے بتا کر انہیں ’خبردار‘ کیا تھا مگر وہ بات کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر رہے تھے۔

ہم نیوز کے مطابق مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کا کہنا ہے کہ جب سے روٹی 15 اورنان 20 روپے کی ہونے کی خبریں آئی ہیں تو اس وقت سے انہیں اسپیکر کے پی اسمبلی مشتاق غنی کی یاد ستانے لگی ہے اور یہ احساس شدت سے ہورہا ہے کہ انہوں نے کس قدر درست مشورہ دیا تھا؟ لیکن ہم نادان ہی سمجھنے سے قاصر رہے تھے۔

لاہور: ہڑتالوں کا موسم آگیا؟فلور ملز مالکان نے بھی اجلاس طلب کرلیا

ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ہم نیوز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ عوام الناس نے اس ضمن میں یکساں مؤقف اپنایا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک وقت کے کھانے کے لیے فی کس دو روٹی خرید سکیں۔

شہریوں کے مطابق اب مجبوراً وہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی جانب سے ملنے والے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صرف ایک روٹی خریدیں گے اور اسی سے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کریں گے۔

ہم نیوز نے پشاور سے بتایا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نان بائیوں نے ایک روزہ ہڑتال کے بعد صوبائی حکومت و شہری انتظامیہ سے یہ بات منوالی ہے کہ پشاور شہر میں 185 گرام والی روٹی 15 روپے کی فروخت کی جائے گی۔

پی ٹی آئی کے مشتاق غنی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی منتخب | humnews.pk

ہم نیوز پشاور کے مطابق حکومت اور شہری انتظامیہ کا نان بائیوں سے ہونے والے معاہدہ شہریوں کو کچھ زیادہ بھایا نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک ’دل جلے‘ شہری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا مشورہ اس قدر بھایا کہ اس نے بجٹ ہی ایسا بنا دیا کہ مشتاق غنی کا ’مشورہ‘ ماننا مجبوری بن گیا۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ روز چار ہزار نان بائیوں نے اپنے تندور بند رکھے تو شہریوں و ہوٹل مالکان کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مذاکرات کیے  اور دس روپے والی روٹی 15 روپے میں فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔

پشاور میں نانبائیوں کی ہڑتال: کراچی کے تاجر 13 جولائی کو کریں گے

نان بائی ایسوسی ایشن کا اس ضمن میں مؤقف تھا کہ آٹے کی بوری 600 روپے مہنگی ہوئی ہے اور سوئی گیس کے نرخ کئی گنا بڑھ چکے ہیں جس کی وجہ سے پرانی قیمتوں پر روٹی اور نان کی فروخت ممکن نہیں رہی ہے۔

ہم نیوز کراچی بیورو کے مطابق شہر قائد میں فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت اب شہرقائد کے باسیوں کو آٹا سات روپے 20 پیسے فی کلو مہنگا ملے گا۔

فلور ملز مالکان کے مطابق 17 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد اب 50 کلو گرام فائن آٹے کا تھیلا دو ہزار چار سو 60 روپے کا دستیاب ہوگا۔ اس ضمن میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مل پرائس کے تعین کے لیے سندھ زون اور سنٹرل زون کے اجلاس آج منعقد ہوں گے۔

روشنیوں کے شہر کے باسی کہتے ہیں کہ گزشتہ 70 سال میں روٹی کی قیمت بڑھ کر صرف چھ روپے ہوئی تھی لیکن صرف ایک سال سے بھی کم عرصے میں موجودہ حکومت نے اسے 15 روپے پر پہنچا دیا ہے۔ شدید غم و غصے کا شکار عوام الناس کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی چکی میں پستے عوام سے اب عملاً روٹی اور منہ کا نوالہ چھینا جارہا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق 325 روپے اضافے کے بعد اب 50 کلوگرام سادہ آٹے کے تھیلے کی قیمت 2225 روپے ہوگئی ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فی الفور مہنگائی پر قابو پائے اور ہر قیمت پر اس بات کو یقینی بنائے کہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔

فیصل آباد سے ہم نیوز بیورو کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی عدم فراہمی اور سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف آج شہر میں فلور ملز مالکان نے ہڑتال کررکھی ہے۔

چییرمین فلور ملز ایسوسی ایشن چودھری شفیق کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپریل سے گندم کی فراہم بند کررکھی ہے جب کہ ہم حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے آٹے کے تھیلے پر دکانداروں کو فی کلو تین روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں جو اب ہمارے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

کراچی: ملک ہول سیلرز ایسوسی ایشن کا 11 جولائی کو ہڑتال کا اعلان

لاہور کے نان بائیوں نے واضح کردیا ہے کہ اب نان 20 اور روٹی 15 روپے کی ملے گی۔ ابھی تک شہر میں نان 12 اور روٹی چھ روپے میں دستیاب تھی۔

ہم نیوز لاہور بیورو کے مطابق نان روٹی ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب گل نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ، اور گیس و بجلی کے نرخوں میں اضافے کے بعد ہماری مجبوری ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کریں۔

آفتاب گل نے خبردار کیا ہے کہ اگر نان اور روٹی کی نئی قیمتوں کے اطلاق کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ہم کاروبار بند کرکے سڑکوں پر آجائیں گے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوٹل اور تندور مالکان نےنہ صرف قیمتوں میں اضافے کے لیے آپس میں صلاح و مشورہ شروع کردیا ہے بلکہ متعدد تندور مالکان نے ’ذہانت‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے روٹی اورنان کے ’پیڑے‘ کا وزن تقریباً نصف کردیا ہے جس کی وجہ سے جس شخص کا پہلے دو روٹی میں پیٹ بھرجاتا تھا وہ اب مجبوراً چار یا تین روٹیاں خریدنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

ہوٹل مالکان نے اپنے گاہکوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پراٹھے کی قیمتوں میں بھی اضافہ کررہے ہیں جب کہ کئی دکانداروں نے فی پراٹھا دس سے 15 روپے زائد وصول کرنا بھی شروع کردیا ہے۔

ہم نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق بیکری و مٹھائی مالکان نے اپنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا آغاز کردیا ہے جب کہ دودو فروش پہلے ہی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کرچکے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں آٹے ومیدے کی قیمتوں سمیت میں سوئی گیس و بجلی کے نرخوں میں کیے جانے والے اضافے کو جواز بنا کر سموسوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز