قبائلی اضلاع میں انتخابات:ضلع کرم میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر

پہلی بار قبائلی اضلاع میں لوگ سیاسی پارٹیوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ گزشتہ جنرل الیکشن میں  ضلع کرم کے دونوں حلقوں سے سیاسی پارٹیوں کے امیدوار کامیاب ہوئے ،  حالیہ الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے  مقامی طور پر ہلچل قابل ذکر ہے ۔

سیاسی پارٹیوں کی مرکزی قیادت نے تاحال الیکشن کے سلسلے میں ضلع کرم کا رخ نہیں کیا ہے البتہ پی ٹی آئی کے متعدد وزراء کی ضلع کرم آمد کو الیکشن مہم کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔

ضلع کرم کے حلقہ پی کے 109 سے کل بائیس امیدوار میدان میں ہیں جن میں سات امیدوار آزاد امیدوار ابرار حسین جان کے حق میں قبائلی عمائدین کے دو مختلف گروہوں کی کوششوں سے دستبردار ہوگئے ہیں جس کے بعد ان امیدواروں کی پوزیشن کافی بہترہوگئی ہے۔

پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں جنہوں نے گزشتہ جنرل الیکشن میں 16996ووٹ لئے تھے اور تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ان کی پوزیشن بھی کافی بہترہے جبکہ آزاد امیدوار عنایت طوری بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اس حلقے سے پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی ساجد طوری نے گزشتہ الیکشن میں 21461 ووٹ لیکر تیسری بار ایم این اے منتخب ہوگئے ہیں موجودہ صورت حال میں مذکورہ تینوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔

اس کے علاوہ پی پی پی کے کرنل ر جاوید اللہ خان، اے این پی کے نذیر نوشی بنگش، آزاد امیدوار ظاہر حسین الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ضلع کرم کے دوسرے انتخابی حلقے پی کے 108 میں جماعت اسلامی کی خاتون امیدوار مالاسہ سمیت بیالیس امیدوران کے درمیان مقابلہ ہورہا ہے ۔

اس حلقے سے جمیعت علمائے اسلام ف کے منیر خان اورکزئی نے 16353 ووٹ حاصل کر کے گزشتہ جنرل الیکشن میں تیسری بار ایم این اے منتخب ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار سید جمال عرف بابائے کرم 13601ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے تھے ۔

سید جمال عرف بابائے کرم نے ہارنے کے بعد منیر اورکزئی پر دھاندلی کا الزام بھی لگایا تھا اور کئی روز تک احتجاجی مظاہرہ  بھی کرتے رہے ۔

اس حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار شاہد بنگش، جمیعت علمائے اسلام کے امیدوار محمد ریاض جبکہ پی پی پی کے امیدوار ڈاکٹر عارف طوری کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے ناراض کارکنوں عبدالخاق پٹھان آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور ضلع کرم کے معروف قبائلی رہنما حاجی سلیم خان بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایک نوجوان نوید حسین کا کہنا تھا کہ وہ اس وجہ سے پی ٹی آئی کو ووٹ دینگے کہ جس طرح ملک کے دیگر علاقوں میں کرپشن کا خاتمہ پی ٹی آئی نے کیا ان کی خواہش ہے کہ قبائلی اضلاع میں بھی کرپشن کا خاتمہ ہو ۔

نوید حسین نے کہا کہ ایک سال کے مختصر مدت میں پاراچنار میں میڈیکل کالج کا اعلان، صحت کارڈ کا اجراء اور ٹوورازم کے لئے قابلِ ذکر اقدامات کئے گئے جبکہ اس سے قبل بار بار مطالبات کے باوجود کسی بھی حکومت نے یہ مطالبات نہیں مانے۔

ایک اور نوجوانوں کامران حسین کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے قبائلی اضلاع میں بھٹو صاحب کے دور اور باقی ادوار میں جو ترقیاتی کام کئے ہیں قبائلی عوام کو ووٹ کا حق دیا ۔ پاراچنار میں ائر پورٹ قائم کیا اور اسپتال و کالج سمیت بے شمار ترقیاتی کام کئے ہیں اس وجہ سے وہ پی پی پی کو ہی ووٹ دینگے ۔

یہ بھی پڑھیے:قبائلی اضلاع میں صوبائی اسملبی کے انتخابات:بیلٹ پپیرز کی چھپائی شروع

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے  بعد انتخابات کا مرحلہ آن پہنچا

قبائلی رہنما خادم حسین ہزارہ کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ایسے شخص کو ووٹ دیں جو زیادہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہو جو کہ بہتر طریقے سے انضمام کے بعد کے صورتحال میں قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے کام کرسکیں کیونکہ وہ زمانے گزر گئے جب ملک صاحبان ہمارے اسکولوں کو حجروں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں خیبر پختونخوا کی 16صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پہلی بار پولنگ 22جولائی کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز