جس دن ضمیر پر بوجھ ہوا، خود ہی مستعفی ہوجاؤں گا، شیخ رشید

اسلام آباد: وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے جس دن ضمیر پربوجھ ہوا، کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی خود ہی استعفیٰ دے دوں گا۔

پروگرام ’ایجنڈا پاکستان‘ میں میزبان عامر ضیاء سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ریل گاڑیوں کے حادثات کا میں ذمہ دار ہوں۔ ریلوےٹریک 1861 میں پڑے ہیں جن پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ سگنل کے نظام پر لاگت آٹھ ارب سے بڑھ کر 32 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ ایم ایل ون آئے تو پھاٹک ختم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو حادثات سے بچانے کے لیے اسکول بند کیے۔ 19 جولائی کو اگلی ٹرین چلانے کے بعد پرانی ٹرینیں بحال کریں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور شہباز شریف میں اختلاف ہے۔ مریم نواز نے مسلم لیگ ن کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے اس سے نوازشریف مزید پھنس جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی عدلیہ پر حملوں کی ایک تاریخ ہے، ابھی بھی ان کے یہ لوگ گواہی دینے کے لیے سامنے نہیں آئیں گے۔ نواز شریف کی لڑائی اصولوں کے لیے نہیں بلکہ لندن جانے کے لیے ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اگلے 90 دنوں میں سیاسی اونٹ کی کروٹ کا فیصلہ ہوجائے گا کہ نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شہباز، احسن اقبال، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے کیسز کا فیصلہ ہونا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ 1985 کی اسمبلی غیر جماعتی تھی لیکن اس کی کارکردگی سب سے اچھی تھی کہ اراکین اچھی طرح تیاری کرکے آتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حلقے کے لوگ آٹا، چینی جیسی ضرورت کی بنیادی اشیاء کے مہنگا ہونے کی شکایت کرنے آتے ہیں لیکن یہ حکومت کی مجبوری ہے۔ لوگوں کے تحفظات سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ رہ بھی سکتا ہے کیونکہ خفیہ ووٹوں میں کچھ بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔

شیخ رشید کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہنا تھا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہم مزاج ہیں کہ سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں، افغانستان سے فوج کا نکلنا ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے الیکشن کے لیے بہت اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز