’ٹیکس دینا چاہتے ہیں، حکومت نظام آسان کرے‘

اسلام آباد: صدر پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم ٹیکس چور نہیں ہیں، حکومت کو ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ہم سے بات چیت کی جائے۔

پروگرام ’ایجنڈا پاکستان‘ میں میزبان عامر ضیاء سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجر ٹیکس دینے سے خوفزدہ نہیں لیکن ٹیکس اکٹھا کرنے والے نظام سے ڈرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرویزمشرف کے دور میں تاجروں کے لیے جو پالیسی متعارف کرائی گئی اسے اسحاق ڈار نے آکر ختم کیا، موجودہ کام نے بھی اسی طرح تاجرکو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ 20 سال سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹیکس فارم کو اردو زبان میں کیا جائے لیکن یہ نہیں کیا جاتا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ہماری بات نہیں سنی، جب ادارے کا گھیراؤ کیا تو انہوں نے بات چیت شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج میں کوئی سیاسی جماعت شامل نہیں لیکن اپوزیشن کی کوشش ہوتی ہے تاجروں کا حصہ بن جائے، حکومت میں انہوں نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے۔

چیئرمین سندھ تاجر اتحاد جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ ہم نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس فارم اردو میں کیا جائے، فکسڈ ٹیکس مقرر کیا جائے، یہ مطالبات انہوں نے مانے صرف شناختی کارڈ کے معاملے پر تعطل ہوا۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ صرف ایک ٹیکس وصول کریں گے جس کے بعد ہڑتال موخر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کی ہے یہ درست نہیں ہے لیکن جب تک بات چیت ہورہی ہے تب تک ہڑتال پر بھی نہیں جانا چاہیے۔ اس ہڑتال میں سیاسی عناصر بھی شامل ہوئے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ حکومتی خسارے کی وجہ ٹیکس نہ دینا نہیں ہے، اگر تاجروں سے حکومت 90 ارب روپے اکٹھا کر بھی لے تو تین ہزار ارب کا خسارہ کیسے پورا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر تاجر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا تو بھی یہ غلط بات ہے لیکن حکومت کو چھاپے روکنے سے متعلق مطالبات بھی تسلیم کرنے چاہیئں۔

فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستانی خزانے میں 3.8 کھرب روپے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ مالی سال میں تین کروڑ خاندانوں میں سے ہر خاندان نے ایک لاکھ 25 ہزار روپے جمع کرائے لیکن اس کے باوجود خزانہ خالی ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوسال کی مالی تاریخ گواہ ہے کہ ڈنڈے سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہوسکتا، حکومت معیشت کی موٹروے پر اسپیڈ بریکر نہ بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہو۔

انہوں نے تجویز دی کہ الزامات کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت پہلے اعتماد قائم کرے اور پھر بات چیت سے معاملہ حل کرے۔

سینئر صحافی حارث ضمیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ وہ تاجروں سے پوچھے کہ وہ کتنا کماتے ہیں اور اس میں ٹیکس کتنا دیتے ہیں کیونکہ ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے خسارہ بہت بڑھ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجروں سے 90 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع ہوسکتا ہے لیکن اداروں پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے وہ قومی خزانے میں لانے میں مشکلات ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز