’جج کی ویڈیو سیاہ دھبہ ہے‘

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے جج ارشد ملک کی وڈیو پر اپنے ردعمل میں کہا وہ 18 سالہ لڑکی نہیں تھے جو گھر سے بھاگ جانے کے 6 ماہ بعد کہتی ہے مجھے پستول دکھا کر اغوا کیا گیا۔

ہم نیوز کے پروگرام’ندیم ملک لائیو‘ میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج کی ویڈیو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ دھبہ ہے اور مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نظام عدل پر لوگوں کا اعتماد بحال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملزمہ نے ویڈیو پیش کی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، جو فیصلہ ہوجائے اس پر تنقید اور پریس کانفرنس بھی ہو سکتی ہے۔

پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ سارا کیس سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں چل رہا تھا ارشد ملک کو چا ہیے تھا کہ نگران جج کو مطلع کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو اصلی ثابت ہوگئی تو جج کے بیان حلفی کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکومت دو بڑی غلطیاں کر چکی ہے جن کے نتائج مستقبل میں بھگتنے ہوں گے۔

ملک کی معاشی صورتحال دگر گوں ہے اور اپوزیشن ایک مشترکہ لائحہ عمل کی دعوت بھی دے چکی ہے لیکن حکومت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے دعوے بہت بڑے کیے ہیں۔

لطہف کھوسہ کا کہنا تھا کہ صاحب اقتدار طبقے نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کر کے غلطی کی اور دوسری بڑی غلطی اپنی معاشی ٹیم کو فارغ کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری موجودہ حکومت بہت معصوم ہے اور اس نے اپنی معاشی و ریاستی خومختاری آئی ایم ایف کے سپرد کر دی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہر چیز کی قیمت میں بلاوجہ اضافہ کیا ہے جس کے سبب بڑے پیمانے پر برآمدات کم ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ جس کو پاکستانی خیرات دیتے ہیں اس کو قرض نہیں دیتے، یہ حقیقت واضح ہوگئی کیوں کہ عوام نے پاکستان فنڈ اور ڈیم فنڈ میں عمران خان کو پیسے نہیں دیے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ نوازشریف جس کیس میں سزا بھگت رہے ہیں اس کے فیصلے سے بدبو اٹھ رہی ہے اور سپریم کورٹ ذمہ داری لیتے ہوئے عدلیہ کا وقار بحال کرے۔

جج ارشد ملک کی ویڈیو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملزم ہے تو کیا اس کے سارے حقوق ختم ہوجاتے ہیں، کیا وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر بھی بات نہیں کر سکتا۔

خرم دستگیر نے کہا کہ موجودہ حکومت فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور شور مچا کر اپنا دفاع کرنے میں لگی ہے۔

ملک کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حکومتی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ سب سے بڑی بات سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کرنٹ خسارہ کم کیا ہے لیکن سابقہ حکومت کی وجہ سے مجبوری کی حالت میں قرض لینا پڑا کیوں ہر چیز کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا تھا۔

ارشد ملک کے معاملے میں علی محمد خان نے کہا کہ اس میں ہم نے کچھ نہیں کرنا حکومت کو سپریم کورٹ پر اعتماد ہے اور ویسے بھی ن لیگ حکومتی ہماری فرانزک رپورٹ ن لیگ قبول نہیں کرے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز