پنجاب کی جیلوں میں 46 ہزار قیدی ہیں ،جیل حکام کی ڈی جی نیب کو بریفنگ

لاہور: پنجاب کی جیلوں میں 46 ہزار قیدی ہیں  جبکہ نیب کیسز میں گرفتار 150 ملزمان فی الوقت کیمپ اور کوٹ لکھپٹ جیل میں موجود ہیں۔

یہ انکشاف محکمہ جیل خانہ جات کے سینیئر حکام نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہورشہزا سلیم  اورنیب ٹیم  کوبریفنگ میں کیا ۔

ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے اس موقع پر کہا کہ جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جانیوالے ملزمان کیجانب سے جیل میں مبینہ ناروا سلوک کی شکایات موصول ہوئیں تو جیل حکام سے بریفنگ لی گئی ۔

بریفنگ  کے دوران جیل حکام نے درپیش مسائل اور انتظامی سہولیات کے فقدان کی شکایات کے انبار لگا دیئے۔

جیل حکام نے کہا کہ جیل اصلاحات کے حوالے سے ماضی میں حکومتوں کی مبینہ طور پر غفلت برتنے کی شکایت  تھی تاہم موجودہ حکومت جیل اصلاحات متعارف کروانے میں سنجیدہ ہے۔

حکام نے بتایا کہ  نیب کیسز میں گرفتار 150 ملزمان فی الوقت کیمپ اور کوٹ لکھپٹ جیل میں موجود جبکہ مجموری طور پر پنجاب کی جیلوں میں 46 ہزار قیدی ہیں، جیلوں کی کمی کے باعث مختلف جیلوں میں قیدیوں کی دگنا تعداد رکھنے پر مجبور ہیں۔ قیدیوں کو عدالتوں میں پیشی کیلئے لے جانے میں بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  کیمپ جیل میں قید 3500 قیدیوں کیلئے صرف 1 ڈیوٹی ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے جبکہ  ایمرجنسی کی صورت میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ پیشی پر بھیجے گئے قیدیوں کو بخشی خانوں میں ملاقاتوں اور دیگر انتظامات پر شدید خدشات لاحق ہوتے ہیں۔

جیل حکام نے تجویز دی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے محکمہ کے وسائل کی بچت ہوگی اور دیگر مسائل سے بھی نجات ملے گی۔

نیب لاہور کےاعلامیے میں کہا گیاہے کہ جیل حکام نے سروس اسٹرکچر ، نفری کی کمی اور طویل ڈیوٹی اوقات جیسے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔  ڈی جی نیب نے محکمہ جیل خانہ جات کو درپیش مسائل حکام بالا تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔

ڈی جی نیب لاہورشہزاد سلیم  نے کہا کہ  ہم نے ملزمان کو بہتر سہولیات فراہم کیں جبکہ حتی الامکان کوشش ہے کہ مزید اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔نیب کے سیل محکمہ جیل خانہ جات کیلئے رول ماڈل ہیں۔ قیدیوں میں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے تفریق اور انکے لئے الگ الگ جیل ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ  وائٹ کالر کرائم کے ملزمان کیساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہ برتا جائے۔  نیب چیف سیکرٹری پنجاب کو نئی جیل کی جلد از جلد تعمیر اور جیل مینول میں ریفارمز کیلئے سفارشات بھیجے گا۔ قیدیوں کی فیملیز سے ہونیوالی ملاقاتوں کے دوران خواتین اسٹاف کا موجود ہونا ممکن بنایا جائے۔

ڈی جی نیب نے کہا کہ قیدیوں کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جانا انکا حق ہے اس پر زور دیا جائے، نیب لاہور کیطرح تمام جیلوں میں بھی ایمرجنسی کیلئے ریسکیو 1122 کی سہولت 24 گھنٹے حاصل کی جانی چاہیئے۔

نیب اور جیل حکام کے مابین رابطہ مزید مستحکم بنانے کیلئے فوکل پرسنز متعین کرنیکا فیصلہ  بھی کیا گیا۔ محکمہ جیل خانہ جات کے وفد کو نیب سیلز میں زیر حراست ملزمان کو دی جانیوالی سہولیات کے بارے میں بتایا گیا اور انہیں حوالات کا دورہ بھی کروایا گیا۔

بریفنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم خضر افضال، آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر، ایس پی ڈسٹرکٹ جیل اسد جاوید اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل لاہور اعجاز اصغر نے شرکت کی۔

نیب لاہور کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ  نیب لاہور کیجانب سے پنجاب کی جیلوں میں قید ملزمان کو فراہم کردہ سہولیات اور جیل حکام کو درپیش مسائل سے آگاہی کیلئے بریفنگ لی گئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز